لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 464
مباحثہ لاہور 464 اس سال حضرت حافظ روشن علی صاحب نے لاہور میں پنڈت دھرم بھکشو اور پنڈت رام چندر دہلوی سے ایک کامیاب مباحثہ بھی کیا۔لجنہ اماءاللہ لاہور کا قیام ۱۹۲۳ء کے خاص واقعات میں سے ایک واقعہ لاہور میں لجنہ اماءاللہ کا قیام ہے۔قادیان دارالامان میں لجنہ اماءاللہ کی بنیا د حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ۲۵ - دسمبر ۱۹۲۲ء کو رکھی اور اس کی پہلی سیکرٹری حضرت امتہ الحی صاحبہ کو مقرر فرمایا۔حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ مرحومہ نے اس کام کو خوب محنت اور ذوق و شوق سے شروع فرمایا۔آپ کی وفات کے بعد یہ اہم خدمت حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ اور پھر حضرت سیدہ ام طاہر کے سپرد ہوئی۔جب اس تنظیم کا قیام عمل میں آیا تو ممبرات نے صدارت کے لئے حضرت اُم المومنین کی خدمت میں درخواست کی مگر حضرت ام المومنین نے غالباً پہلے ہی اجلاس میں حضرت سیدہ ام ناصر کو اپنی جگہ بٹھا کو صدارت کا فیصلہ ان کے حق میں فرمایا۔چنانچہ آپ نے اپنی وفات تک اس فرض کو نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دیا۔آپ کی وفات کے بعد یہ خدمت حضرت ام متین صاحبہ کے سپر د کر دی گئی جسے آپ اب تک نہایت محنت جانفشانی اور کمال جد و جہد کے ساتھ سرانجام دے رہی ہیں۔حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے ابتداء میں لجنہ کو اس کے فرائض سے آگاہ کرنے کے لئے جو چٹھی ۱۵۔دسمبر ۱۹۲۲ء کو لجنہ کے نام لکھی اس میں تحریر فرمایا کہ دشمنان اسلام میں عورتوں کی کوششوں سے جو روح بچوں میں پیدا کی جاتی ہے اور جو بدگمانی اسلام کی نسبت پھیلائی جاتی ہے اس کا اگر کوئی تو ڑ ہوسکتا ہے تو وہ عورتوں ہی کے ذریعہ سے ہو سکتا ہے۔اور بچوں میں اگر قربانی کا مادہ پیدا کیا جاسکتا ہے تو وہ بھی ماں ہی کے ذریعہ سے کیا جا سکتا ہے۔پس علاوہ اپنی روحانی و علمی ترقی کے آئندہ جماعت کی ترقی کا انحصار بھی زیادہ تر عورتوں ہی کی کوشش پر ہے۔چونکہ بڑے ہو کر جو اثر بچے قبول کر سکتے ہیں حضرت سیدہ کی وفات ۳۱ جولائی ۱۹۵۸ء کو ہوئی۔