لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 465
465 وہ ایسا گہرا نہیں ہوتا جو بچپن میں قبول کرتے ہیں۔اسی طرح عورتوں کی اصلاح بھی عورتوں کے ذریعہ سے ہوسکتی ہے۔‘، ۲۴ اس تحریر کی وضاحت میں حضور نے سترہ امور بیان فرمائے جن کو مدنظر رکھ کر اس تنظیم کو چلانا مقصود تھا۔۲۵ جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے ۱۹۲۳ء میں لجنہ اماءاللہ لاہور کا قیام عمل میں لایا گیا گو یہ قیام با قاعدہ تنظیم کے ماتحت نہ تھا۔مگر جیسا کہ محترمہ زینب حسن صاحبہ جنرل سیکرٹری لجنہ اماء اللہ لا ہور نے بیان فرمایا ہے۔شروع شروع میں محترمہ اہلیہ صاحبہ محمد اسحاق صاحب مرحوم اور محتر مہ اماں پہلوانی صاحبہ نے اس کام کی ابتداء کی۔یہ دونوں بزرگ خواتین ہر جمعہ کی نماز کے بعد مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ میں لجنہ کے جلسہ کا انتظام کرتیں۔خود پنجابی میں تقریریں کرتیں اور بعض اوقات مردوں کی تقاریر کروا کر ان جلسوں کو زیادہ مفید اور مؤثر بنانے کی کوشش فرماتیں۔ممبرات سے چندہ بھی باقاعدگی کے ساتھ وصول کر کے مرکز میں بھجوا تیں۔چند سالوں کے بعد ایک خاتون محترمہ زبیدہ نامی لاہور میں تشریف لائیں۔ان کے آنے پر اس تنظیم نے با قاعدگی کا رنگ اختیار کیا۔چنانچہ بالا تفاق انہیں لجنہ کی صدر اور محتر مہ اہلیہ صاحبہ بابو عبد الحمید صاحب ریلوے آڈیٹر کو سیکرٹری چنا گیا۔ان کے ساتھ سیکرٹری مال کا عہدہ محترمہ اہلیہ مرزا محمد صادق صاحب مرحوم کے سپرد کیا گیا۔تینوں مستورات نے طویل عرصہ تک اس کام کو حسن و خوبی کے ساتھ چلایا۔پھر جب محترمہ زبیدہ خاتون صاحبہ لا ہور سے تشریف لے گئیں اور محتر مہ اہلیہ صاحبہ بابوعبد الحمید صاحب بیمار ہوگئیں تو محتر مہ اہلیہ صاحبہ مرزا محمد صادق صاحب کے ساتھ محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ شیخ محمد سعید صاحب نے مل کر کام کرنا شروع کر دیا۔اس زمانہ میں لا ہور کی وسعت کو مدنظر رکھ کر لجنہ کے کام کو حلقوں میں تقسیم کیا گیا۔۴۲ ۱۹۴۱ء میں لجنہ اماءاللہ حلقہ چابک سواراں میں لجنہ کی صدر محترمہ امتہ اللہ بیگم صاحبہ مغل اور سیکرٹری محترمہ زینب حسن صاحبہ مقرر ہوئیں۔محترمہ زینب حسن صاحبہ کا بیان ہے کہ ۱۹۴۷ء تک اس حلقہ کا کام دوسرے تمام حلقوں سے شاندار رہا۔۱۹۴۷ء میں لق