لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 43 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 43

43 اس پیشگوئی کا مقصد چونکہ احقاق حق اور ابطال باطل تھا اس لئے جب یہ اپنی پوری شان کے ساتھ پوری ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا: یہ پیشگوئی ایک بڑے مقصد کے ظاہر کرنے کیلئے کی گئی تھی یعنی اس بات کا ثبوت دینے کیلئے کہ آریہ مذہب بالکل باطل اور وید خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ملے خدا تعالیٰ کے پاک رسول اور برگزیدہ نبی اور اسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے سچاند ہب ہے۔سو اس پیشگوئی کونری ایک پیشگوئی خیال نہیں کرنا چاہئے بلکہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک آسمانی فیصلہ ہے۔اسے حسین کا می سفیر ترکی کالا ہور سے قادیان جانا مئی ۱۸۹۷ء میں ایک ترکی کی قونصل مسلمی حسین کا می متعینہ کراچی لاہور آئے۔عبد الحمید ثانی سلطان لڑکی کا زمانہ تھا۔لاہور اسٹیشن پر ان کا بڑا ز بر دست استقبال کیا گیا۔ڈپٹی برکت علی صاحب شاہجہانپوری پریذیڈنٹ انجمن اسلامیہ لاہور کی کوٹھی واقعہ بیرون موچی دروازہ میں ان کے قیام کا انتظام کیا گیا۔بعض احمدی احباب بھی انہیں تبلیغ کرنے کیلئے پہنچ گئے۔ان کی تبلیغ کا نتیجہ یہ نکلا کہ قونصل صاحب اپنی کسی سیاسی غرض کے ماتحت قادیان جانے کے لئے تیار ہو گئے مگر وہاں ان کا مدعا حاصل نہ ہوا۔جس کے نتیجہ میں لاہور واپس آ کر انہوں نے سخت مخالفت کی۔اور ان کی ایک ایسی ہی مخالفانہ تحریر کی اشاعت کے سلسلہ میں اخبار ناظم الہند کے ایڈیٹر نے خوب حصہ لیا اور پبلک کو مشتعل کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔اس واقعہ کے بعد ایسے حالات پیش آئے کہ اسی سال یعنی ۱۸۹۷ء میں یونان اور ترکی کی لڑائی چھڑ گئی ہندوستان کے مسلمانوں نے ترکی کی امداد کے لئے چندہ جمع کر کے ترکی قونصل حسین کا می کو دیا جو انہوں نے ترکی حکومت کے خزانہ میں جمع کروانے کی بجائے خود ہضم کر لیا۔اس کی خبر جب سلیم پاشا ملحمہ کا رکن کمیٹی چندہ کو پہنچی تو انہوں نے بڑی کوشش کے ساتھ اس روپیہ کو اگلوانے کی کوشش کی اور قونصل مذکور کی اراضی مملوکہ کو نیلام کروا کر وصولی رقم کا انتظام کیا اور باب عالی میں خبر بھجوا کر انہیں نوکری سے موقوف کر وا دیا۔۲۲