لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 434
434 کیا کوئی خلافت کے کام میں روک ہے وو تیسری بات یہ ہے کہ بعض لوگوں کا خیال ہے اور وہ میرے دوست کہلاتے ہیں۔اور میرے دوست ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ خلافت کے کام میں روک لاہور کے لوگ ڈالتے ہیں۔میں نے قرآن کریم اور حدیث کو استاد سے پڑھا ہے اور میں دل سے انہیں مانتا ہوں۔میرے دل میں قرآن اور حدیث کی محبت بھری ہوئی ہے۔سیرت کی کتا ہیں ہزاروں روپیہ خرچ کر کے لیتا ہوں۔ان کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے اور یہی میرا ایمان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔آدم اور داؤد کا خلیفہ ہونا میں نے پہلے بیان کیا اور پھر اپنی سرکار کے خلیفہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ جس طرح ابوبکر اور عمر خلیفہ ہوئے رضی اللہ عنہما۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے مجھے مرزا صاحب کے بعد خلیفہ کیا۔اب اور سنو ! انا جعلنا كم خلائف في الارض تم سب کو بھی زمین میں اللہ تعالیٰ نے ہی خلیفہ کیا۔یہ خلافت اور رنگ کی ہے۔پس جب خلیفہ بنانا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے تو کسی اور کی کیا طاقت ہے کہ اس کے کام میں روک ڈالے۔لاہور میرا گھر نہیں میرا گھر بھیرہ میں تھا یا اب قادیان میں ہے۔میں تمہیں بتا تا ہوں کہ لاہور کا کوئی آدمی نہ میرے امر خلافت میں روک بنا ہے نہ بن سکتا ہے۔پس تم ان پر بدظنی نہ کرو اگر مان لیا ہے تو شکر کرو اور نہیں تو صبر کی دوا موجود ہے۔میں باوجود اس بیماری کے جو مجھے کھڑا ہونا تکلیف دیتا ہے۔اس موقعہ کو دیکھ کر سمجھاتا ہوں کہ خلافت کیسری کی دکان کا سوڈا واٹر نہیں ( جو سہل الحصول ہو۔مؤلف ) تم اس بکھیڑے سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔نہ تم کو کسی نے خلیفہ بنانا ہے اور نہ میری زندگی میں کوئی اور بن سکتا ہے۔میں جب مر جاؤں گا (اللهم متعنا بطول حیاتہ تو پھر وہی کھڑا ہوگا جس کو خدا چاہے گا۔اور خدا اس کو آپ کھڑا کر دے گا۔