لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 418 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 418

418 سلطان سے باہر تھے۔لیکن مجھے یہ سمجھ آئی کہ نئے فرمانروا نے جو کچھ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ہمراہیوں کو کہا انہوں نے خاموشی سے سن کر سر تسلیم خم کیا اور خاموش ہی باہر آ گئے۔اس کے بعد مجھے حکم ہوا۔میرے ہمراہ چار پانچ احباب باقی تھے اور وہ میری سرکردگی میں پیش ہوئے۔جب میں کمرہ سلطان کے اندر داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ نیا حاکم خود مولوی نورالدین صاحب ہیں۔آپ نے نہایت متانت اور تمکنت کے ساتھ مجھے اور میرے ہمراہیوں کو دیکھا اور پھر حسب ذیل گفتگو ہوئی۔میرا انداز جواب کسی قدر تیز تھا۔مولوی نورالدین صاحب : تم جانتے ہو کہ تم کون ہو اور تمہاری حیثیت کیا ہے؟ میں : میں خوب جانتا ہوں کہ جس خاندان شاہی کے ہم رکن تھے وہ دور بدل گیا ہے اور ہم اس وقت اسیر سلطانی ہیں۔مولوی نورالدین صاحب: کیا وجہ ہے کہ تمہارے ساتھ وہی سلوک نہ کیا جائے جو اسیرانِ سلطانی کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔کیا وجہ ہے کہ تم کو ان وطنوں سے نکال کر دوسرے وطنوں میں آباد نہ کیا جاوے۔میں : ( بڑے جوش اور لا پرواہی کے ساتھ ) آپ کی جو مرضی ہے کریں۔جب ہم اسیر سلطانی ہیں تو ہمارا چارہ ہی کیا ہے۔ہم خوب سمجھتے ہیں کہ ہمارا اب دور بدل گیا ہے۔اب ہم قیدی ہیں۔اگر ہم کچھ اور چاہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں جو آپ کی خوشی ہو کر و۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔میرے جسم پر سخت رعشہ اور سنساہٹ تھی اور ایک مدت تک اپنے آپ کو سنبھال نہ سکا۔یہ تہجد کا وقت تھا۔میں اٹھا اور سب سے اوّل اسی واقعہ کو قلمبند کیا اور صبح تک استغفار میں مصروف رہا۔بعد از نماز صبح حضرت مرزا صاحب مغفور باہر آئے تو سب سے اول جو موقعہ مجھے تنہائی میں آپ سے ملا۔میں نے وہ کاغذ پیش کیا۔دو دن کے بعد یہ رویاء بالکل بد یہی واقعہ ہو جانے والا تھا لیکن مصلحت ربی نے آپ کی طبیعت کو اس طرف نہ آنے دیا۔آپ نے صرف اس قدر فرمایا کہ خواب میں اسیران سلطانی ہونا نہایت مبارک ! نہایت ہی مبارک ہے۔حضرت صاحب کے بعد میں حضرت حکیم صاحب قبلہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔