لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 417 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 417

417 زمانہ ہے جس میں حضرت سید دلاور شاہ صاحب بخاری کی صلاحیتیں اجاگر ہوئیں۔جب انہوں نے تبلیغی اور تربیتی کاموں میں حصہ لینا شروع کیا۔جناب خواجہ کمال الدین صاحب کا ایک رویاء اب ہم خواجہ کمال الدین صاحب کا ایک حیرت انگیز اور سبق آموز رویاء درج کرتے ہیں جو آپ نے حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کی خلافت اور اپنے انجام کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام میں لاہور میں دیکھا۔آپ لکھتے ہیں : احمدی جماعت میں بہت تھوڑوں کو اس بات کا علم ہے کہ میں نے ہی سب سے اوّل حضرت قبلہ کو اپنی طرف سے اور اپنے خاص احباب کی طرف سے خلافت کا بارگراں اٹھانے کے لئے عرض کیا۔اس کی بناء کوئی مصلحت وقت نہ تھی بلکہ اشارہ ربی جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔حضرت مسیح موعود ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔میں نے شب درمیان ۲۳ - ۲۴ مئی ۱۹۰۸ ء ایک عجیب رویاء دیکھا۔میں ان واقعات کا ذکر بھی نہ کرتا لیکن چونکہ بعد کے واقعات اور موجودہ واقعات نے اس رویاء کی صداقت پر مہر لگا دی ہے اس لئے میرے نزدیک ہر ایک سلیم الفطرت احمدی کے لئے یہ ایک قطعی شہادت ہے۔میں نے دیکھا کہ میں اور میرے ہمراہ شاید اور نو یا دس یا گیارہ احباب ہیں جن میں سے ایک مولوی محمد علی صاحب ہیں۔ہم سب کسی شاہی خاندان میں سے ہیں۔لیکن جس خاندان کے ہم ممبر ہیں ان کا سرتاج تخت سے الگ ہو چکا ہے اور نئی سلطنت قائم ہو گئی ہے اور پہلا دور بدل گیا ہے اور ہم یہ نو دس آدمی اسیرانِ سلطانی ٹھہرائے گئے ہیں۔ہم سخت تشویش میں ہیں کہ اتنے میں ہمیں اطلاع ہوئی کہ نئی سلطنت کا سرتاج ہم کو طلب کرتا ہے اور ہمیں ہماری قسمت کا فیصلہ سناتا ہے۔کیا شان ایزدی ہے کہ ہم جو نو دس آدمی ہیں ان کی بھی دو جماعتیں بنائی گئی ہیں۔حکم ہوا کہ باری باری جماعت میں نئے حاکم کے سامنے ہم پیش ہوں۔چنانچہ پہلی جماعت جو نئے سلطان کے سامنے پیش ہوئی۔وہ بسر کر دگی مولوی محمد علی صاحب گئی۔ہم کمرہ