لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 416 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 416

416 تحریری تبلیغ کا کام چونکہ ہر شخص نہیں کر سکتا تھا اس لئے بعض مخصوص افراد نے یہ کام اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔ایسا ہی تقریر کا ملکہ بھی ہر شخص میں نہیں ہوتا۔خاص خاص لوگ ہی تقریر کر سکتے ہیں۔مگر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو تقریرا اور تحریر دونوں پر قادر ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ان کو مالی وسعت بھی دی ہوتی ہے۔وہ مالی قربانیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔حضرت قریشی صاحب موصوف انہی اصحاب میں سے تھے جو تحریر و تقریر کا ملکہ رکھنے کے ساتھ ساتھ مالی قربانیوں میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔تبلیغی ٹریکٹ عموماً حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر لکھا کرتے تھے۔وہ اعلیٰ پایہ کے انشا پرداز تھے۔زبانی تبلیغ میں حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل ، حضرت میاں سعدی صاحب ، حضرت حکیم محمد حسین صاحب قریشی ، حضرت سید دلاور شاہ صاحب اور حضرت بابو غلام محمد صاحب فورمین زیادہ مشہور تھے مالی قربانی میں وہ اصحاب بھی خاصہ حصہ لیا کرتے تھے جو بعد کو غیر مبائعین کے گروہ میں شامل ہو گئے اعنی جناب شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی ، جناب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور جناب مرزا یعقوب بیگ صاحب وغیرہ۔جناب شیخ رحمت اللہ صاحب کو یہ خصوصیت بھی حاصل تھی کہ وہ موسم سرما کے گرم کپڑے اپنی دکان سے تیار کروا کر حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے۔ان سب احباب کے علاوہ ایک مشہور و معروف ہستی حضرت میاں چراغ دین صاحب رئیس لا ہور کی تھی جن کے حضرت اقدس کے ساتھ نہایت گہرے مراسم تھے اور حضرت صاحب جب بھی لاہور میں تشریف لاتے عموماً ان کے گھر کو اپنا گھر سمجھ کر ان کے ہاں قیام فرمایا کرتے تھے۔نمازیں بھی انہیں کے مکان پر باجماعت ادا کی جاتی تھیں۔مہمان خانہ بھی انہی کا گھر تھا اور جماعت کے ساتھ ان کا سلوک اس قسم کا تھا جس طرح ایک باپ کا اپنے بچوں کے ساتھ ہوتا ہے۔اس موقعہ پر حضرت منشی محبوب عالم صاحب مالک راجپوت سائیکل ورکس نیلہ گنبد اور حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ صاحب سائیکل ڈیلر نیلہ گنبد کا ذکر بھی ضروری ہے۔یہ دونوں اصحاب نہایت مخلص اور بہت محنتی کا رکن تھے۔موخر الذکر تو مالی قربانیوں میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے زمانہ میں مندرجہ بالا اصحاب کے علاوہ بعض اور سرگرم کارکن بھی باہر سے لاہور شریف لائے جن میں جناب بابو عبد الحمید صاحب ریلوے آڈیٹر جناب ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب بٹالوی اور جناب مولوی محب الرحمان صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔پھر یہی وہ