لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 40
40 اس الہام کے بعد ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کو جب حضرت اقدس نے اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کیلئے توجہ کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر ظاہر کیا کہ : " آج کی تاریخ سے جو ۲۰ فروری ۱۸۹۳ ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بد زبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ اللہ کے حق میں کی ہیں۔عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا“۔کلے ایک الہام اس کے متعلق یہ بھی ہوا ہے کہ يُقْضَى أَمْرُهُ فِي سِتِ“ کہ پنڈت لیکھرام کا معاملہ چھ میں ختم کر دیا جائے گا۔حضرت اقدس نے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کے ابتدا میں پنڈت لیکھرام کے متعلق مندرجہ ذیل فارسی اشعار بھی لکھے : الا اے دشمن نادان و بے راہ مولی که گم کردند مردم ره الا اے منکر از شان محمد بیا بترس از تیغ بُران محمد بچو در آل و اعوان محمد ہم از نور نمایان محمد کرامت گر چه بے نام ونشان است بنگر ز غلمان محمد یعنی " خبر داراے اسلام کے نادان اور گمراہ دشمن ! تو محمد اللہ کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر۔اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا رستہ جسے لوگ کھو بیٹھے ہیں آ اور اسے محمد ﷺ کے روحانی فرزندوں اور آپ کے لائے ہوئے دین کے مددگاروں میں تلاش کر۔ہاں اے وہ شخص جو محمد رسول اللہ ﷺ کی شان اور آپ کے کھلے کھلے نور کا بھی منکر ہے اگر چہ کرامت بے نام و نشان ہے لیکن محمد ﷺ کے غلام سے اس کا مشاہدہ کرلے“۔پھر ۲۔اپریل ۱۸۹۳ء کو حضور نے ایک اشتہار کے ذریعہ اعلان فرمایا کہ: آج جو ۲ اپریل ۱۸۹۳ء مطابق ۱۴ ماه رمضان ۳۱۰اہ ہے۔صبح کے وقت تھوڑی سی غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں ایک وسیع مکان میں بیٹھا ہوا ہوں اور چند