لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 41
41 دوست بھی میرے پاس موجود ہیں۔اتنے میں ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل گویا کہ اس کے چہرہ سے خون ٹپکتا ہے میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا ہے۔میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی خلقت اور شائل کا شخص ہے گویا انسان نہیں ملائک شدا د غلاظ میں سے ہے اور اس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی۔اور میں اس کو دیکھتا تھا کہ اس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھرام کہاں ہے؟ اور ایک اور شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے؟ تب میں نے اس وقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھر ام اور اس دوسرے شخص کی سزا دہی کیلئے مامور کیا گیا ہے۔مگر مجھے معلوم نہیں رہا کہ دوسرا شخص کون ہے“۔19 پھر آپ نے اپنی کتاب ”کرامات الصادقین میں جس کا سن تصنیف ۱۸۹۳ ء ہے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کی مدت مقررفرما دی۔چنانچہ لکھا: و بشر نی ربّی و قال مبشرا ستعرف يوم العيد و العيد اقرب یعنی مجھے لیکھرام کی موت کی نسبت خدا نے بشارت دی اور کہا کہ عنقریب تو اس عید کے دن کو پہچان لے گا اور اصل عید کا دن بھی اس عید کے قریب ہوگا۔پنڈت لیکھرام کے بار بارنشان طلب کرنے پر حضرت اقدس نے جونشان اسے دکھانا چاہا اس کے متعلق پیشگوئی کی کافی وضاحت ہو چکی ہے۔اب تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنا بھی ضروری ہے۔پنڈت صاحب مذکور چونکہ حضرت اقدس کی پیشگوئیوں کو بالکل ہی نا قابل التفات سمجھتے تھے۔اس لئے جوں جوں حضور کی طرف سے پیشگوئی کی وضاحت ہوتی گئی پنڈت صاحب شوخی و شرارت میں بڑھتے گئے۔وہ اس وہم میں مبتلا تھے کہ جس طرح انہوں نے چند سال قبل حضرت اقدس کے متعلق پیشگوئی کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ : ي شخص ( یعنی حضرت مرزا صاحب) تین سال کے اندر ہیضہ سے مر جائے گا کیونکہ (نعوذ باللہ ) کذاب ہے۔اور پھر لکھا تھا کہ: تین سال کے اندر اس کا خاتمہ ہو جائے گا اور اس کی ذریت میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا “۔گا۔۲۰