لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 407 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 407

407 لیا تھا۔کہ ایک دن تحصیل میں چپڑاسیوں کے نام حضرت منشی کا کو خاں آئے اور بھری مجلس میں حضرت مولوی صاحب سے بڑے در دو اعتماد کے ساتھ مخاطب ہوئے: مولوی صاحب کیا واقعی حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں۔کیا آپ اپنے رب کی قسم کھا کر مرزا صاحب کے اس دعوے کی تصدیق کر سکتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب اس وقت کلام پاک کا وعظ فرما رہے تھے فوراً دائیں ہاتھ میں اسی کتاب مقدسہ کو بلند کرتے ہوئے فرمایا: کا کو خاں! قسم ہے مجھے اس خدائے واحد کی جس نے یہ زمین و آسمان بنائے ہیں اور جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ قرآن تو حضرت عیسی علیہ السلام کو وفات یافتہ ہی ثابت کرتا ہے اور حضرت مرزا صاحب اپنے تمام دعاوی میں صادق ہیں۔یہ سنتے ہی منشی کا کو خاں چھلک پڑے اور بڑے مسرت آفریں لہجے میں بولے : بھائیو! میں تو پھر کل قادیان جا رہا ہوں۔بولو میرے ساتھ اور کون کون چلتا ہے قادیان کو روانگی اس پر حضرت ابا جان اور حاجی محمد دین صاحب کمبوہ نے معیت سفر کی حامی بھری اور احمدیت کے تین عاشقوں کا یہ قافلہ اپنے نادیدہ محبوب کی زیارت کے لئے ۱۹۰۵ ء والے زلزلے کے دوسرے دن تخت گاہ مسیح زماں ( قادیان دارالامان ) کی طرف روانہ ہو گیا۔قادیان پہنچے تو شوق میں ن آنکھوں سے امڈا امڈا پڑتا تھا۔ہر بزرگ چہر وہی جھلک تھی۔ہر روئے روشن میں وہی نور اور سرور دکھائی دیتا تھا۔حضرت منشی کا کوخان اسی لگن میں ہر بزرگ چہرے کو دیکھ کر لپکتے اور پوچھتے۔کیا آپ امام مہدی ہیں؟ جواب ملتا۔نہیں بھائی میں تو ان کی خاک پا بھی نہیں، خدا کا مسیح تو اندر قلمی جہاد میں مصروف ہے۔یہاں تک کہ حقیقی امام مہدی مسجد مبارک میں طلوع ہوئے اور ابھی دروازے سے نکل کر دو قدم بھی نہ چلنے پائے تھے کہ حضرت منشی کا کو خان نے بڑھ کر عرض کیا۔حضور ہماری بیعت لے لیجئے اس التجا میں نہ جانے کس قدر اعتماد تھا کہ حضور نے بھی اپنی عادت اور معمول کے خلاف