لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 395
395 محترم ملک برکت علی صاحب گجراتی ولادت: بیعت : غالباً ۱۸۹۷ء وفات محترم ملک برکت علی صاحب گجرات کے رہنے والے تھے۔لاہور میں محکمہ نہر میں ملازم تھے۔پیر جماعت علی شاہ صاحب کے مرید تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ میں نے روحانیت میں ترقی حاصل کرنے کے لئے پیر صاحب سے وظیفہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا ” تصور شیخ کرو مگر مجھے تصور شیخ سے بھی کچھ حاصل نہ ہوا۔اس کے بعد جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تقریر ” جلسہ مذاہب عالم لا ہور پڑھی تو میری آنکھیں کھل گئیں۔اور میں نے قادیان جا کر بیعت کر لی۔یہ غالباً ۱۸۹۷ء کا واقعہ ہے۔ملک صاحب ایک لمبا عرصہ بسلسلہ ملازمت لاہور میں مقیم رہے۔بہت ہی مخلص احمدی تھے۔تبلیغ کا بے حد شوق تھا۔آپ کے صاحبزادہ مکرم و محترم ملک عبدالرحمن صاحب خادم مرحوم کو بعد میں بہت ترقی کر گئے مگرا بتداء تبلیغ کا شوق انہیں اپنے باپ کے نمونہ کو دیکھ کر ہی پیدا ہوا تھا۔بعد میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی صحبت نے چار چاند لگا دیئے اور خادم صاحب مرحوم کا شمار جماعت احمدیہ کے چوٹی کے مناظرین میں ہونے لگا حتی کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے انہیں "خالد" کے خطاب سے نوازا۔ذلک فضل الله يؤيته من يشاء والله ذو الفضل العظيم۔محترم ملک مبارک علی صاحب ولادت: وفات: محترم ملک مبارک علی صاحب محترم ملک محمد شریف صاحب سوداگر چوب کے صاحبزادے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بیعت کی۔بہت ہی مخلص احمدی تھے۔حضرت اقدس علیہ السلام جب لا ہور تشریف لاتے تو ملک صاحب موصوف سیر میں بھی اپنی گاڑی لے کر برابر ساتھ جاتے۔تیسری بیوی سے اولاد ہوئی۔اولاد