لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 386
386 لیں۔چنانچہ میں نے اپنا پیالہ آگے کر دیا۔وہ قریباً ڈیڑھ سیر دودھ ڈال کر چلا گیا۔اسی طرح اس شخص کا معمول رہا کہ روزانہ رات کو آتا اور ڈیڑھ سیر کے قریب دودھ میرے برتن میں ڈال کر چلا جاتا۔اس میں سے میں کچھ رات کو پی لیتا اور کچھ صبح کو۔شیخ عبدالعزیز صاحب نے مجھے کہا کہ میرے دل میں خیال آیا کہ دیکھوں یہ کون شخص ہے جو مسلسل ڈیڑھ سال سے دودھ دے رہا ہے اور کبھی ناغہ بھی نہیں کرتا اور نہ ہی رقم کا مطالبہ کرتا ہے۔چنانچہ اس خیال کے مدنظر میں ایک روز اس شخص کے آنے سے پہلے ہی حافظ صاحب کے دروازے کے آس پاس گھومنے لگا۔اتنے میں ایک شخص ہاتھ میں برتن لئے ان کے اندر چلا گیا۔چونکہ سردیوں کے دن تھے اس لئے حافظ صاحب اندر چار پائی پر بیٹھے تھے۔اس شخص نے حسب معمول دودھ دیا۔میں اسے دیکھنے کے لئے جب اندر داخل ہوا تو وہ میرے پاؤں کی آہٹ سن کر کمرہ کے اندر ایک کونے میں جا کھڑا ہوا۔اندر اندھیرا تھا۔اس لئے میں پہچان نہ سکا۔غور سے دیکھا تو ایک شخص دیوار سے لگا دکھائی دیا۔میں نے پاس جا کر پوچھا۔بھائی تم کون ہو۔مجھے دھیمی سی آواز آئی شیر علی “ یہ سنتے ہی میرے پاؤں تلے سے جیسے زمین نکل گئی۔میں سخت شرمندہ ہوا کہ جس کام کو حضرت مولوی صاحب راز میں رکھنا چاہتے تھے میں نے اسے افشا کر دیا۔مجھے دیر تک آپ کے سامنے جاتے ہوئے شرم محسوس ہوتی تھی۔۵ اپنا کام خود کرنا غالباً ۳۱ ۱۹۳۰ء کا ذکر ہے گرمیوں کا موسم تھا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ڈلہوزی تشریف لے جانے پر حضرت مولوی شیر علی صاحب قادیان کے مقامی امیر تھے۔خاکسار ان دنوں مولوی فاضل کلاس میں تعلیم پا رہا تھا اور حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل حال امیر جماعت احمدیہ قادیان کے نئے مکان میں رہا کرتا تھا۔چونکہ امتحان کے دن قریب تھے اس لئے زیادہ وقت پڑھائی میں صرف کرنے کی غرض سے بجائے مسجد مبارک کے مسجد اقصیٰ ہی میں تمام نمازیں ادا کیا کرتا تھا۔ایک روز حضرت مولوی صاحب نے عشاء کی نماز کے بعد کسی سے دریافت فرمایا کہ کیا شیخ عبد القادر صاحب نو مسلم جو جامعہ احمدیہ میں تعلیم پارہے ہیں مسجد میں موجود ہیں؟ مجھے ان سے ایک