لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 385 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 385

385 آپ نے فوراً وہ کمبل اتار کر اسے دے دیا اور خود اسی حالت میں اپنے گھر تشریف لے گئے ہے محض خدا کی خاطر میاں غلام محمد صاحب ٹیلر ہی کا بیان ہے کہ منہاس قوم کے ایک ہندو دوست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قادیان تشریف لائے اور بمعہ اہل وعیال احمدی ہو گئے۔حضور نے ان کا نام شیخ عبدالعزیز رکھا۔حضرت خلیفتہ اسیح الاول سے قرآن پڑھنے کی وجہ سے ان کو قرآن سے ایسا عشق ہو گیا کہ لوگوں کو قرآن پڑھایا کرتے تھے میں بھی ان سے قرآن پڑھنے جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ شیخ صاحب نے مجھے سنایا کہ قاضی ظہور الدین صاحب اکمل جس کمرہ میں بیٹھ کر ریویو (اردو۔مؤلف ) کی ادارت کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔اس کے سامنے ایک کچا مکان تھا۔وہاں ایک حافظ نا بینا رہتے تھے۔وہ قدیم زمانہ میں جو قادیان میں میلہ قدماں لگا کرتا تھا اس کے گدی نشین تھے لیکن احمدیت قبول کر لینے کے بعد گدی سے الگ ہو گئے تھے۔شیخ صاحب نے مجھے سنایا کہ میں حافظ صاحب کے پاس عموماً جایا کرتا تھا۔کیونکہ وہ پرانے صحابہ میں سے تھے۔ایک روز میں ان کے پاس گیا تو وہ مجھے سنانے لگے کہ کچھ عرصہ ہوا۔میں حکیم قطب دین صاحب کے پاس گیا اور یہ شکایت کی کہ میرے کانوں سے شاں شاں کی آواز میں آتی رہتی ہیں اور سنائی بھی کم دیتا ہے کوئی علاج بتا ئیں۔حکیم صاحب نے فرمایا کہ آپ کے کانوں میں خشکی ہے دودھ پیا کریں۔اس پر میں ( حافظ صاحب) نے کہا۔روٹی تو مجھے مسیح کے لنگر سے مل جاتی ہے۔دودھ کہاں سے پہیوں ؟ یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ مسجد مبارک کو جاتے ہوئے حضرت مولوی شیر علی صاحب وہاں سے گذرے۔آپ نے حکیم قطب دین صاحب سے دریافت فرمایا کہ یہ حافظ صاحب کیا کہہ رہے ہیں۔حکیم صاحب نے کہا کہ ان کے کانوں میں خشکی ہے میں ان سے دودھ پینے کے لئے کہہ رہا ہوں لیکن حافظ صاحب کہتے ہیں کہ دودھ کہاں سے پیوں۔حضرت مولوی صاحب یہ سنکر چلے گئے۔حافظ صاحب فرمانے لگے کہ اسی روز رات کے وقت ایک شخص میرے پاس آیا۔اور کہنے لگا حافظ صاحب دودھ لے