لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 371
371 وہ اس مسئلہ میں جو کچھ کہنا چاہتے تھے پہلے ہی کہہ چکے تھے انہیں نظر آ رہا تھا کہ جب سلامتی کونسل پہلے ہی فیصلہ کر چکی ہے تو پھر اسے قائل کرنے کی کوشش بے سود ہے۔دو لیکن اس وقت عربوں کے بعض نمائندے جو دیکھ رہے تھے کہ ہمارے وزیر خارجہ بحث کے دوران میں خاموش بیٹھے ہیں آپ کے پاس آئے اور (ایک مرتبہ پھر ) عربوں کا معاملہ پیش کرنے کی درخواست کی۔چوہدری محمد ظفر اللہ خاں نے تقریر کے لئے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔بایں ہمہ وہ عرب نمائندوں کو مایوس بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ادھر تقریر تیار نہ ہونے کے علاوہ طبیعت بھی قدرے ناساز تھی۔ایک لحہ تذبذب کے بغیر آپ سیدھے سٹیج کی طرف بڑھے۔اس کے بعد مسلسل دو گھنٹہ تک سلامتی کونسل کی فضا فن خطابت کی ضوفشانی سے جگمگ جگمگ کرتی رہی۔عرب نمائندوں نے با اتفاق رائے تسلیم کیا کہ جس دلنشین انداز اور پُرزور طریق پر چوہدری محمد ظفر اللہ خاں نے ان کا معاملہ پیش کیا ہے اس زور دار طریق پر دوسرا کوئی شخص پیش نہیں کر سکا۔دو گھنٹے تک یوں معلوم ہوتا تھا کہ دلائل و براہین کا ایک دریا ہے جو انڈا چلا آتا ہے۔اس تمام عرصہ میں وہ چند صیہونی نمائندے جو پچھلی نشستوں پر بیٹھے تھے تلملاتے اور بل بھرتے رہے اور منہ میں جھاگ لا لا کر اپنے لرزیدہ پاؤں فرش پر مار رہے تھے۔اور منہ ہی منہ میں برا بھلا کہہ رہے تھے۔اس میں قطعا کوئی مبالغہ نہیں کہ۔۔۔ایک سیکسیس میں ہمارے وزیر خارجہ نے وہ ناموری حاصل کی ہے جو بلاشبہ کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہے۔دواڑھائی سال کے عرصہ میں بیرونی دنیا میں انہوں نے پاکستان کی ساکھ قائم کرنے اور اس کی عزت و وقار کو چار چاند لگانے میں جو کارنامہ سرانجام دیا ہے اس کی مثال نہیں مل سکتی۔قائد اعظم مرحوم کی طرح وہ جھکنا نہیں جانتے۔وہ اس فتح کے قائل ہی نہیں جو گر کر نصیب ہو۔وہ فتیابی کس کام کی جس کی خاطر عزت نفس گنوانی پڑے۔وہ کبھی تذلل اختیار نہیں کرتے اور پھر بھی ہمیشہ فتحیاب رہتے ہیں۔اللہ ۴۔خبر نامه اقوام متحدہ نے اپنے تبصرہ میں لکھا کہ آنریبل سر محمد ظفر اللہ خاں اقوام متحدہ کے حلقوں میں بہت ممتاز درجہ رکھتے ہیں۔