لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 35 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 35

35 کل کا پروگرام سناتا ہوں‘ ، ۱۲ ان الفاظ کے بعد آپ نے اگلے روز کے اجلاس کا پروگرام سنا کر جلسہ کو برخاست کر دیا۔۲۹ تاریخ کو جب یہ مضمون ختم ہوا تو ایک معزز ہندو کی زبان سے جو اس جلسہ کا صدر تھا بے اختیار یہ فقرہ نکلا کہ یہ مضمون تمام مضمونوں سے بالا رہا اور لاہور کے مشہور انگریزی اخبار ” سول اینڈ ملٹری گزٹ نے لکھا کہ : د, جلسہ اعظم مذاہب لا ہور جو ۲۶ - ۲۷۔۲۸ دسمبر ۱۸۹۶ء کو اسلامیہ کالج لاہور کے ہال میں منعقد ہوا۔اس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے مندرجہ ذیل پانچ سوالوں کا جواب دیا ( آگے پانچوں سوالات نقل کئے گئے ہیں ) لیکن سب مضمونوں سے زیادہ توجہ اور زیادہ دلچسپی سے مرزا غلام احمد قادیانی کا مضمون سنا گیا جو اسلام کے بڑے بھاری مؤید اور عالم ہیں۔اس لیکچر کو سننے کے لئے ہر مذہب وملت کے لوگ کثرت کے ساتھ جمع تھے۔چونکہ مرزا صاحب خود جلسہ میں شامل نہیں ہو سکے۔اس لئے یہ مضمون ان کے ایک قابل اور فصیح شاگرد مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے پڑھا۔۲۷ تاریخ والا مضمون قریباً ساڑھے تین گھنٹہ تک پڑھا گیا اور گوا بھی پہلا سوال ہی ختم ہوا تھا۔لوگوں نے اس مضمون کو ایک وجد اور محویت کے عالم میں سنا اور پھر کمیٹی نے اس کے لئے جلسہ کی تاریخوں میں ۲۹ دسمبر کی زیادتی ,, کردی۔اس تقریر کے متعلق جور پورٹ ہندوؤں کی طرف سے مرتب ہوئی، اس کے الفاظ یہ ہیں : پنڈت گوردھن داس صاحب کی تقریر کے بعد نصف گھنٹہ کا وقفہ تھا۔لیکن چونکہ بعد از وقفه ایک نامی وکیل اسلام کی طرف سے پیش ہونا تھا۔اس لئے اکثر شائقین نے اپنی اپنی جگہ کو نہ چھوڑا۔ڈیڑھ بجنے میں ابھی بہت سا وقت رہتا تھا کہ اسلامیہ کالج کا وسیع مکان جلد جلد بھر نے لگا۔اور چند ہی منٹوں میں مکان پُر ہو گیا۔اس وقت کوئی سات ہزار کے قریب مجمع تھا۔مختلف مذاہب و ملل اور مختلف سوسائٹیوں کے معتد بہ اور ذی علم آدمی موجود تھے۔اگر چہ کرسیاں اور میزیں اور فرش نہایت ہی وسعت کے ساتھ مہیا کیا گیا لیکن صد ہا آدمیوں کو کھڑا ہونے کے سوا اور کچھ نہ بن پڑا۔اور ان کھڑے ہوئے شائقینوں میں بڑے بڑے