لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 356
356 اسلام واحمدیت میں گزاری۔آپ سے بے شمار کرامات ظاہر ہوئیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے ظاہری و باطنی دونوں قسم کے علوم سے وافر حصہ عطا فر مایا تھا۔سینکڑوں لوگ آپ کے ذریعہ سلسلہ عالیہ میں داخل ہوئے۔صاحب الہام و کشوف تھے۔پنجابی اردو فارسی اور عربی زبان پر نہایت گہر ا عبور حاصل تھا۔فن تقریر اور تحریر دونوں میں اللہ تعالیٰ نے کمال عطا فر مایا تھا۔قرآن کریم کے حقائق و معارف اور اسرار و غوامض کے بیان کرنے میں عجیب خدا داد ملکہ حاصل تھا۔جب درس قرآن مجید دیتے تو آپ سے کلام الہی کے نکات معرفت سن کر اپنے تو اپنے غیر از جماعت کے بڑے بڑے صاحب علم وفضل لوگ وجد میں آ جاتے۔میدان مناظرہ کے شہسوار تھے فریق مخالف خواہ کسی مذہب وملت سے ہوتا آپ کی آمد ہی سے لرزاں و ترساں ہونے لگتا۔عربی زبان کے آپ خصوصاً قادر الکلام شاعر تھے۔آپ نے عربی میں کئی قصائد لکھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس معجزہ کے ثبوت میں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور کو اس زمانہ میں اعجازی طور پر زبان عربی کی فصاحت و بلاغت کا علم بخشا ہے۔اپنے عربی علم کلام کو پیش کر کے مخالفین احمدیت کو بار ہاللکارا کہ تم لوگ مسیح موعود علیہ السلام کے ادنی ترین غلام کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتے آقا کا مقابلہ کسی طرح کر سکتے ہو۔جماعت احمدیہ میں خلافت اور نظام خلافت کی کمال اطاعت وادب آپ کا جز وایمان تھا۔خلیفہ وقت کی محبت عشق کا رنگ رکھتی تھی۔اور اس بارہ میں آپ حد درجہ غیور واقع ہوئے تھے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ و حضرت اصلح الموعود خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی شان کے خلاف کوئی لفظ تک سننا آپ کے لئے نا قابل برداشت تھا۔آپ ہر موقعہ پر خلیفہ وقت کی کامل اطاعت وفرمانبرداری اور تنظیم سلسلہ کی پابندی اور اعتراضات و نکتہ چینی سے اجتناب کرنے کی افراد جماعت کو تبلیغ وتلقین کرتے رہتے۔خاکسار راقم الحروف کو آپ کی معیت میں ایک عرصہ تک ملک کے طول وعرض میں تبلیغ کے سلسلہ میں کام کرنے کا موقعہ ملا ہے۔وہ زمانہ ایسا مبارک تھا کہ اب بھی جب وہ ایام سامنے آتے ہیں تو عجیب لطف محسوس ہونے لگتا ہے۔اس کتاب کے دوسرے حصہ میں آپ کے بعض ایمان افروز واقعات درج کئے جائیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ حلیہ مبارک : حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ کا قد میانہ اور رنگ سانولا تھا۔ڈاڑھی متوسط اور گھنی، خضاب لگایا کرتے تھے۔جسم بہت مضبوط اور چہرہ بارعب تھا۔آپ بہت سادہ لباس پہنتے تھے۔