لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 354
354 آپ تو صحابی بھی تھے۔اس لئے صحابہ میں بھی آپ کا ذکر آنا چاہیئے۔لہذا یہاں بھی آپ کا ذکر کیا جاتا ہے۔(مؤلف) ولادت : ۱۸۷۷ء اور ۱۹۷۹ء کے درمیان بیعت : ۱۸۹۷ء بذریعہ خط وفات : ۱۶۔دسمبر ۱۹۶۳ء حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی رضی اللہ عنہ ہمارے سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کے صوفی منش بزرگ انسان تھے۔آپ معزز زمیندار وڑائچ قوم میں سے تھے۔آپ کا گاؤں راجیکی، گجرات شہر سے تقریباً چودہ میل کے فاصلہ پر مغرب کی جانب واقع ہے۔آپ کے والد محترم کا نام میاں کرم دین صاحب تھا اور والدہ محترمہ کا آمنہ بی بی۔آپ کی پیدائش ۱۸۷۷ء اور ۱۸۷۹ء کے درمیان کسی بھادوں کے مہینہ میں ہوئی۔آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کی پیدائش سے پہلے ایک رویا میں دیکھا تھا کہ ان کے گھر میں ایک چراغ روشن ہوا ہے جس کی روشنی سے تمام گھر جگمگا اٹھا ہے۔ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے گاؤں راجیکی میں ہی حاصل کی۔اس کے بعد حضرت قاضی محمد اکمل صاحب کے والد حضرت مولوی امام الدین صاحب کی خدمت میں موضع گولیکی حاضر ہوئے اور مثنوی مولانا روم پڑھنے کا اشتیاق ظاہر کیا۔جسے حضرت مولوی صاحب موصوف نے منظور فرما لیا۔ان ایام میں آپ اپنے خاندانی طریق کے مطابق کثرت سے مختلف قسم کے وظائف کا ورد کیا کرتے تھے اور جنگلوں اور ریگستانوں میں جا کر گھنٹوں یاد الہی میں تڑپ تڑپ کر دعائیں مانگا کرتے تھے۔ان دنوں آپ نے ایک رویا میں آنحضرت عمﷺ کی زیارت کی اور پھر کچھ عرصہ بعد ایک خواب میں دیکھا کہ آنحضرت علی ہندوستان پر چڑھائی کرنے کیلئے ایک لشکر تیار فرما رہے ہیں۔جس میں آپ بھی بھرتی ہو گئے۔لشکر کے ہر سپاہی کوحکم ملا کہ وہ برچھی سے خنزیروں کو قتل کرے۔آپ فرماتے ہیں کہ جو خنزیر کسی سے قتل نہیں ہوتا تھا آپ اسے ایک ہی وار سے وہیں ڈھیر کر دیتے تھے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے قبل آپ نے حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور بہت سے اولیاء کرام کی مختلف کشوف کے ذریعہ زیارت کی۔آپ کی بیعت کی تقریب یوں پیدا ہوئی کہ ان ایام میں جب آپ حضرت مولوی امام الدین