لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 351 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 351

351 انہیں حاجی صاحب کہنا شروع کر دیا تھا۔چنانچہ اب بھی آپ حاجی نصیر الحق صاحب کے نام سے مشہور ہیں۔اولاد: انور سلطانہ سرور سلطانہ بشیر الحق، منور سلطانہ اکبر سلطانہ امۃ السلام فرحت نسیم، عشرت نسیم، منیر الحق، امین الحق، رفعت نسیم، مبین الحق، نزہت نسیم، نگہت نسیم۔افسوس حضرت حاجی صاحب ۱۵-۱۶ فروری ۱۹۶۶ ء کی درمیانی رات بمقام لاہور وفات پاگئے اور ۱۶۔فروری بروز بدھ بعد نماز عصر بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن کئے گئے۔انا للہ و انا الیه راجعون۔محترم خواجه محمد دین صاحب ولادت : ۱۸۸۸ء بیعت : بچپن میں محترم خواجہ محمد دین صاحب سکنہ چونڈہ حال قلعہ پچھن سنگھ لا ہور نے قبول احمدیت کی داستان بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ: میرے والد صاحب کا نام خواجہ فتح دین تھا۔ذات کے وائیں کشمیری تھے۔چونڈہ ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے اور ان خوش قسمت اصحاب میں سے تھے جنہوں نے شروع دعوئی میں ہی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی تھی۔میری پیدائش چونڈہ ہی میں ہوئی۔جب میں نے ہوش سنبھالا تو مجھے بھی آپ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کا علم ہوا اور متعدد مرتبہ آپ کے ساتھ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر قادیان بھی گیا۔زلزلہ کانگڑہ کے ایام میں میں اپنے والد محترم کے ساتھ گرم چادروں کو فیتہ لگایا کرتا تھا۔انہی ایام میں میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے والد محترم کے ساتھ گرم چادروں کو فیتہ لگا رہا ہوں۔اسی اثناء میں کیا دیکھتا ہوں کہ دکھن کی طرف سے ایک چاند اڑتا ہوا ہماری طرف آ رہا ہے۔کوئی تین منزل اونچا ہے۔جب وہ ہمارے پاس سے گذر گیا تو میں نے دیکھا کہ اس کے گذر جانے کے بعد اندھیرا ہوتا جا رہا ہے۔میں نے اپنے والد محترم سے