لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 347 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 347

347 اور ساڑھے سات سور و پیہ جرمانہ اور بصورت عدم ادائیگی جرمانہ مزید چھ ہفتہ قید محض کی سزادی گئی جسے آپ نے بخوشی قبول کیا۔آپ کے دوسرے ساتھ مولوی نورالحق صاحب کو تین ماہ قید محض اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ بصورت عدم ادائیگی جرمانہ ایک ماہ قید محض کی سزا ہوئی۔اس خدا کے بندہ نے بھی خندہ پیشانی سے یہ سزا برداشت کی۔آپ نہایت ہی حلیم الطبع ' صابر اور قانع بزرگ تھے۔مذہب سے خاص دلچسپی رکھتے تھے۔چنانچہ اس دلچسپی کی خاطر ہی آپ نے ایک اچھی ملازمت کو چھوڑ کر اپنے قومی اخبار ”سن رائز“ کی ایڈیٹری قبول کر لی تھی۔محترم مولوی محب الرحمن صاحب فرماتے ہیں۔حضرت شاہ صاحب نہایت ہی مخلص، نیک اور فنافی الاحمدیت تھے۔جوانی سے لے کر بڑھاپے تک تبلیغ ، بحث مباحثہ اور خدمت جماعت میں مصروف رہے۔ابتدا میں احمد یہ ہوٹل کے سپرنٹنڈنٹ بھی رہے۔غیر احمدیوں اور غیر مسلموں کے جلسوں میں احمدیت پر اعتراضات کے جواب کے لئے سینہ سپر رہتے تھے۔نہایت قابل لیکچرار تھے۔جماعت کے سیکرٹری تبلیغ تھے اور خطبات جمعہ نہایت قابلیت سے دیتے تھے۔آپ کی وفات ۶۔جون ۱۹۴۴ء کو ہوئی۔انا لله و انا اليه راجعون۔اولا د محمود۔خالد۔دولڑ کیاں حضرت سیدہ امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں ۲۵۔جون ۱۹۰۴ء کو پیدا ہوئیں۔آپ کا نکاح ے۔جون ۱۹۱۵ء کو حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب سے جو حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کی پہلی بیگم سے دوسرے صاحبزادے تھے، ہوا۔خطبہ نکاح حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نے مسجد اقصیٰ میں پڑھا۔حضرت مولوی صاحب موصوف ان ایام میں لاہور میں بطور مبلغ مامور تھے۔حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس غرض کے لئے آپ کو لاہور سے بلوایا تھا۔شادی کی تقریب نہایت ہی سادہ طریق پر ۲۲۔فروری ۱۹۱۷ء کو عمل میں آئی۔اس بارہ میں حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کا بیان ہے کہ