لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 341 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 341

341 خوشی و اطمینان ہے کہ آپ نے بڑی محنت اور عرقریزی کے ساتھ اس مشکل اور اہم کام کو جاری رکھا جو اب بہت جلد اختتام کو پہنچ رہا ہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔محترم ملک صاحب بہت سادہ طبیعت رکھتے ہیں۔لباس بھی سادہ ہوتا ہے یعنی پگڑی، قمیض ، لمبا کوٹ اور شلوار پہنتے ہیں۔گندمی رنگ میانہ قد پتلا د بلا جسم مگر بے حد محنتی اور مضبوط ارادہ کے مالک ہیں آج کل آپ کی رہائش محترم جناب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ وسابق امیر جماعت احمد یہ لا ہور کی کوٹھی ۱۳۔ٹمپل روڈ کے عقب کی ایک کوٹھی میں ہے۔اولاد مبارک احمد منصور احمد محمود احمد مبشر احمد۔منور احمد۔کرشن احمد۔منصورہ بیگم۔راشدہ بیگم۔زاہدہ بیگم مرحومہ۔محترم منشی سر بلند خان صاحب ولادت : ۱۸۸۴ ء یا ۱۸۸۵ء بیعت : ۱۹۰۴ء وفات : ۹ دسمبر ۱۹۶۵ء محترم جناب منشی سر بلند خان صاحب سے جب پرسوں مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۶۵ء کو بعد نماز مغرب جودھامل بلڈنگ کے نماز کے کمرہ میں خاکسار نے یہ بات دریافت کی کہ آپ نے احمدیت کیسے قبول کی ؟ تو آپ نے فرمایا کہ دل سے تو میں سن ۱۹ ء ہی میں احمدی ہو گیا تھا مگر بیعت میں نے ۱۹۰۴ء میں کی تھی۔احمدیت کی طرف راغب ہونے کا ذریعہ یہ بنا کہ میرے چچا حضرت منشی علی گوہر صاحب احمدی تھے اور ملتان کے علاقہ میں رہتے تھے۔میں بھی مڈل پاس کر کے ان کے پاس ملتان چلا گیا۔ان کے ہاں اخبار الحکم آتا تھا۔حضرت اقدس کی کتابیں بھی ان کے پاس تھیں اور مجھے مطالعہ کا شوق تھا۔میں اخبار اور کتابوں کا مطالعہ کر کے اس نتیجہ پر پہنچ گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یقینا سچے ہیں۔۱۹۰۳ء میں پٹوار کا کام سیکھنے کے لئے میری ڈیوٹی موضع بری منگل نزد دھار یوال ایک مسلمان پٹواری کے ساتھ لگی۔میں چونکہ احمدیت کا اس کے ساتھ ذکر کرتا تھا اس لئے وہ میرا مخالف ہو گیا تھا۔پھر میں ایک ہندو پٹواری کے پاس موضع چھینا چلا گیا۔اس نے مجھے خوب کام سکھا یا چھینا میں طاعون کی بیماری زوروں پر تھی۔اس لئے اس پٹواری کے مشورہ سے میں نے اپنی رہائش موضع شیر پور میں اختیار کر لی۔ہرسیاں گاؤں ساتھ تھا۔وہاں محترم مولوی عبد الغفور صاحب فاضل مرحوم کے والد میاں فضل محمد صاحب