لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 339 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 339

339 احمدی ہو جاؤں گا۔ڈاکٹر صاحب کے چلے جانے کے بعد پہلے تو ہم سب احمدی احباب نے مریض کی شفایابی کے لئے مل کر دعا کی اور صدقہ کیا۔پھر میں نے نواں شہر جا کر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کرانے کے لئے تار دیا۔خدا کی قدرت کہ تاردینے کی دیر تھی کہ مریض کی حالت سدھرنے لگی اور تھوڑے دنوں میں وہ بالکل تندرست ہو گیا۔گویا مردہ زندہ ہو گیا۔یہ نشان دیکھ کر چو ہدری حمایت خاں صاحب نے تو بیعت کر لی اور مخلص احمدی بن گئے مگر ڈاکٹر صاحب اپنے قول سے پھر گئے۔محترم چوہدری صاحب فرماتے ہیں کہ میرے بڑے بھائی صاحب میری شادی کا انتظام ہمارے غیر احمدی مالدار اور صاحب جائیداد رشتہ داروں میں کرنا چاہتے تھے۔مگر میرا دل کسی احمدی رشتہ کی تلاش میں تھا۔سو اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ مخالف حالات کے باوجود میری شادی محترم با بو عبدالحی خاں صاحب ڈپٹی پوسٹ ماسٹر سکنہ کا ٹھ گڑھ کی حقیقی ہمشیرہ اور مولوی عبد السلام صاحب کا ٹھ گڑھی کی چچازاد ہمشیرہ سے ہوگئی اور اس طرح سے آئندہ نسل خدا تعالیٰ کے فضل سے محفوظ ہو گئی۔چنانچ حضرت خلیفہ امسیح اول کی وفات پر جب غیر مبائعین نے انجمن اور خلافت کا فتنہ کھڑا کیا۔تو اللہ تعالیٰ کا سرا سر فضل و احسان ہے کہ مجھے اس نے خلافت کی تائید میں کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔یہ کتاب ” حیات نور میں میرا نام بھی اعلان خلافت کرنے میں غلام قادر آف لنگڑ وعہ سیکرٹری جماعت احمد یہ لنگڑ وعہ کے نام سے درج ہے۔میں نے مکا نہ تحریک شدھی میں بھی حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تحریک پر تین ماہ اپنے خرچ پر تبلیغی کام سرانجام دیا اور جب پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو میں محکمہ سپلائی میں ملازم ہو کر بصرہ۔بغداد نجف وغیرہ میں گیا اور وہاں پر بکثرت سلسلہ کا لٹریچر تقسیم کیا۔یہ اللہ تعالی کا خاص فضل و احسان ہے کہ اس نے مجھے ہر مالی قربانی میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائی۔چنانچہ میں نے منارۃ المسیح قادیان میں ۱۰۰ روپیہ مسجد فرینکفورٹ میں ۱۰۰ روپیہ تعمیر دفتر انصار اللہ میں ۱۰۰ روپیہ حصہ جائداد وصیت میں اب تک ۲۵۰۰ روپیہ دیا۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ حلقہ راج گڑھ کے احباب مسجد نہ ہونے کی وجہ سے محترم چوہدری صاحب کے مکان پر ہی نمازیں پڑھتے ہیں۔چوہدری صاحب حلقہ کے بہت سرگرم کارکن