لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 336 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 336

336 بہت سے لوگوں نے اوپر ہاتھ رکھے پھر بعض نے پیٹھوں پر اور بعض نے پگڑیاں لمبی کر کے ان کو پکڑ کر بیعت کی۔یہ بیعت حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر کے مکان کی بیٹھک میں ہوئی تھی اور یہ وہ جگہ تھی جہاں اب حبیب بنک ہے اور مسجد احمدیہ کی گلی کے سرے پر ہے۔اس کے بعد ۱۹۰۶ ء میں بھی قادیان جانے کا موقعہ مالا۔پھر ۱۹۰۸ء میں جب حضور کا وصال ہوا تو خاکسار سکول سے ایک دن کی رخصت حاصل کر کے لاہور پہنچا مگر حضور کا جنازہ قادیان جا چکا تھا۔صبح ہونے پر میں اپنے چھا حضرت شیخ صاحب دین صاحب کے ہمراہ قادیان روانہ ہوا۔اور ہم عین اس وقت قادیان پہنچے جب حضرت خلیفہ اسیح الاوّل تقریر فرما رہے تھے اور حضور کا جنازہ پاس رکھا ہوا تھا۔تقریر کے بعد احباب کے اصرار پر حضور نے حاضر الوقت احباب کی بیعت لی۔پھر حضرت اقدس کا جنازہ پڑھایا۔بعد ازاں جنازہ باغ والے مکان میں رکھا گیا اور احباب کو آخری دیدار کا موقعہ دیا گیا احباب ایک دروازہ سے داخل ہوتے تھے اور حضور کا چہرہ مبارک دیکھ کر دوسرے سے نکل جاتے تھے۔مجھے خوب یاد ہے کہ حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل نے اس وقت میرے چا شیخ صاحب دین صاحب کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ شیخ صاحب صدیق ثانی ہو گیا ہے آئندہ عمر ثانی ہوگا۔شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ ۱۹۳۲ ء میں مکرم مولوی عبدالغفور صاحب فاضل اور اخوند محمد اکبر خاں صاحب کی تحریک سے میں نے ۱/۱۰ کی وصیت کی۔وصیت کا نمبر ۳۷۵۸ ہے اور یہ وہ نمبر ہے جو منظوری سے قبل مجھے رویا میں بتایا گیا تھا۔بعد میں اللہ تعالیٰ نے 1/9 حصہ کی توفیق بھی دیدی۔محترم شیخ صاحب نے فرمایا کہ جب میں نے گوجرانوالہ میں میٹرک پاس کر کے لاہور کے ایف سی کالج میں داخلہ لیا تو ان ایام میں کالج کے پروفیسروں میں سراج الدین بھی تھا۔جس کے سوالات کے جوابات میں حضرت اقدس نے وہ مشہور معروف رسالہ لکھا تھا جس کا نام ” سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ہے۔سراج الدین انجیل بھی پڑھاتا تھا اور تاریخ بھی۔میں اس پر سوالات کرتا تھا۔شروع شروع میں تو وہ سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کرتا تھا۔مگر بعد ازاں میں جب بھی سوال کرنا چاہتا تو وہ کہتا آپ بیٹھ جائیں۔اس کا دوسرے لڑکوں پر بہت اچھا اثر پڑتا۔مجھے خوشی ہوتی اور فخر محسوس کرتا کہ یہ