لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 333 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 333

333 بیرون پاکستان تبلیغ کرتے ہوئے پچیس سال کا عرصہ گذر چکا ہے۔محترم میاں نور محمد صاحب نے حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی صحت کے لئے پنجابی زبان میں ایک دعائیہ نظم بھی لکھی ہے جسے آپ چھ ہزار کی تعداد میں چھوا کر مفت تقسیم کر چکے ہیں۔اولاد: مولوی محمد صدیق صاحب مبلغ سنگا پور۔امتہ الرشید۔امتہ الحفیظ۔رحمت بی بی۔بشری صادقہ - محمد لطیف۔محترم میاں نذیر حسین صاحب ولادت : انداز ۱۸۹۴۴ء بیعت : بچپن میں محترم میاں نذیر حسین صاحب ولد حضرت حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی نے بیان فرمایا کہ میں حضرت مولوی غلام حسین صاحب ( جو ۳۱۳ صحابہ میں سے تھے ) امام مسجد گئی بازار سے قرآن کریم پڑھا کرتا تھا۔مولوی صاحب موصوف قرآن کریم پڑھاتے ہوئے ہمیں وفات مسیح کے دلائل بھی سکھایا کرتے تھے۔اور کبھی کبھی امتحان بھی لیا کرتے تھے۔جب انہوں نے محسوس کر لیا کہ یہ بچہ اب غیروں کے سامنے بھی دلائل پیش کر سکتا ہے تو فر مایا کہ تم غیر احمدی مولوی صاحبان کے پاس جایا کرو اوران سے لوگوں کے سامنے پہلے وضو ٹوٹنے اور نماز فاسد ہونے کے مسائل پوچھا کرو۔پھر وفات مسیح سے متعلق قرآنی آیات پیش کر کے ان کا مطلب دریافت کیا کرو۔چنانچہ میں نے ایسا کرنا شروع کر دیا۔ایک مرتبہ بھائی دروازہ کے اندر بازار حکیماں سے پہلے ایک اونچی مسجد میں گیا۔اس مسجد کے مولوی کولوگ خلیفہ جی کہا کرتے تھے۔ان سے جب میں نے چند مسائل دینیہ پوچھے اور پھر آیت فـلـمـا تو فیتنی پیش کر کے اس کا مطلب پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ مرزائی ہے اس کو مارو۔چنانچہ مجھے لوگوں نے مارنا شروع کر دیا۔اور مار پیٹ کر مسجد کے حوض میں پھینک دیا مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بچالیا۔اس واقعہ کے بعد جب میں حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور اس مسجد کی مار پیٹ کا حال سنایا تو حضور نے مجھے پیار کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو خدا نے تمہیں معجزانہ طور پر بچا لیا۔اس پر میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں بیعت کرنے کی درخواست کی۔حضور نے فرمایا جب آپ کا باپ اور دادا سب احمدی ہیں تو تم بھی احمدی ہو بیعت کی ضرورت نہیں مگر میرے اس اصرار پر کہ لوگ کہتے ہیں والدین کی وجہ سے یہ