لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 322
322 دیتیں تا وہ روزے اچھی طرح رکھ سکیں۔حضرت والد صاحب کی وفات اور پھر حضرت ام ناصر صاحبہ کا ساتھ چھوٹ جانے سے ان کی صحت پر برا اثر ہوا۔اور کمزور ہوتی گئیں اور آخر ۲۔دسمبر ۱۹۶۴ء کو وفات پاگئیں۔فانا لله وانا اليه راجعون۔اللهم نور مرقدها و ادخلها في اعلی علیین اولاد: سات بیٹے۔دو بیٹیاں۔۴۲ پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں۔۲۴ پڑپوتے پڑپوتیاں۔محترم ملک مظفر احمد صاحب ولادت : ۱۸۸۹ - ۱۸۸۸ء بیعت : ۱۹۰۳ء محترم ملک مظفر احمد صاحب کے والد ماجد کا نام شیخ علی محمد صاحب تھا۔قوم ککے زئی اور دھرم کوٹ رندها واضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے۔ملک مظفر احمد صاحب کی پیدائش بدوملہی ضلع سیالکوٹ میں ہوئی جہاں آپ کے والد ماجد پٹواری تھے شیخ فقیر اللہ صاحب آپ کے دادا کا نام تھا وہ بھی بدوملہی میں ہی پٹواری رہے تھے۔حضرت شیخ علی محمد صاحب بھی صحابی تھے۔پہلے انہوں نے تحریری بیعت کی اور پھر ۱۹۰۶ ء میں قادیان حاضر ہو کر دستی بیعت کا شرف حاصل کیا اور ۴۔جنوری ۱۹۰۸ء کو مختصر علالت کے بعد تقریبا ۴۲ سال کی عمر میں وفات پائی اور بد وملہی میں ہی دفن ہوئے۔محترم ملک مظفر احمد صاحب نے ابتدائی تعلیم بدوملہی میں ہی حاصل کی۔پھر کچھ عرصہ کے لئے ایبٹ آباد میں اپنے چا محترم شیخ نور احمد صاحب وکیل کے پاس چلے گئے اور وہاں پڑھتے رہے۔اکتوبر ۱۹۰۳ء میں اپنے والد کے حکم سے قادیان گئے اور چھٹی جماعت میں داخلہ لیا۔بیعت بھی ۱۹۰۳ء میں ہی کی۔19ء میں وہاں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا مگر ۱۹۰۸ء میں والد محترم کی وفات کی وجہ سے کالج چھوڑنا پڑا۔۱۹۰۸ء سے لیکر ۱۹۳۱ء تک ایبٹ آباد کے ایک فوجی دفتر میں بطور کلرک ملازم ہو کر بعہدہ انڈین آفیسر ریٹائر ہوئے۔۱۹۴۰ء میں دوسری عالمگیر جنگ کے دوران میں پھر آپ کو فوج میں بلالیا گیا اور وہاں سے بعہدہ لیفٹینٹ جنوری ۱۹۴۹ء میں ریٹائر ہوئے۔آپ نے یکے بعد دیگرے شیخ علی احمد صاحب وکیل گورداسپور کی دونواسیوں کے ساتھ شادی کی۔آپ نے تقسیم ملک کے بعد حلقہ سول لائنز لاہور میں کئی