لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 317 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 317

317 حضور سیدنا مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت اس زمانہ میں کی جب میرے تایا بابا جی شاعر نے کی جو غالباً ۱۹۰۰ ء یا اس سے پیشتر کی ہے۔میں اپنے والد صاحب کے ہمراہ ۱۹۰۲ء یا ۱۹۰۳ء میں قادیان دار الامان جلسہ میں شمولیت کے لئے گیا تھا۔بٹالہ سٹیشن پر اتر کر ہم سب دس گیارہ میل پیدل چل کر جایا کرتے تھے۔سردی میں بستر وغیرہ اٹھاتے اور حضور اقدس کی نظمیں پڑھتے جاتے تھے۔جب ۱۹۰۴ء میں حضور اقدس کی تقریر لاہور میں ہوئی تو تقریر حضرت مولا نا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے پڑھی۔گوروں کا پہرہ تھا۔بے شمار خلقت تھی۔لیکن جب حضرت مولانا صاحب نے اپنی دلکش آواز میں تقریر کرنا شروع کی تو تمام احباب ہمہ تن گوش ہو کر تقریر سنتے رہے۔میری عمر اس وقت چودہ برس کی تھی۔میں نے تمام تقریر سنی - ۱۹۰۵ ء میں والد صاحب بیمار ہو گئے اور ۱۹۰۶ء میں رحلت فرما گئے۔میرا برادر خورد غلام محمد بھی ۱۹۰۷ء میں فوت ہو گیا۔میں بالکل پریشان ہو گیا۔۱۹۰۸ء میں حضور سیدنا مسیح موعود بھی رحلت فرما گئے۔میں نے حضور اقدس کا جنازہ بخوبی دیکھا۔لاہور کے لوگوں نے بے پناہ شورش کی گالیاں نکالتے تھے اور بکواس کرتے تھے۔اء میں حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب خلیفہ مقرر ہوئے۔میں نے بھی بیعت کی۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل بھی ۱۹۱۴ء میں رحلت فرما گئے۔پھر جب سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ مقرر ہوئے تو میں نے بھی ایک ہفتہ کے بعد ( خدا بھلا کرے میاں سعدی مرحوم کا جن کے ذریعہ مجھے بیعت کرنے کی توفیق ملی ) بیعت کر لی۔پھر خدا کے فضل وکرم کے ماتحت جب موجودہ خلیفہ کو مصلح موعود ہونے کا الہام ہوا تو حضور نے اس کا اعلان فرمانے کے لئے پنجاب کے مختلف شہروں میں تقریریں کیں۔میں ہر ایک جلسہ میں موجود تھا۔دہلی والے جلسہ میں از حد شورش ہوئی۔شورہ پشت لوگ بار بار عورتوں پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔میرے ہمراہ میاں معراج الدین صاحب پہلوان پہرہ پر تھے۔خداوند کریم کا لاکھ لاکھ شکر اور احسان ہے کہ ہنگامہ ختم ہو گیا اور جلسہ بھی خوش اسلوبی سے ختم ہو گیا۔ملکانہ تحریک میں مجھے موضع کہ وائی ضلع آگرہ میں بھیجا گیا۔جناب ملک ڈاکٹر عبید اللہ خان صاحب بھی میرے بعد وہاں پہنچ گئے۔خدا کا شکر ہے کہ ہمیں وہاں خوب کام کرنے کا موقعہ ملا اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذریعہ سے بہت سے لوگوں کو غیر مسلم بننے سے محفوظ رکھا۔