لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 304
304 حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر نے ایک چھڑی ہاتھ میں پکڑی اور قریب تھا کہ اسے پکڑ کر سخت سزا دیتے۔مگر آپ نے دیکھ کر حضرت اقدس کی خدمت میں اطلاع کر دی۔حضور نے فرمایا۔میاں معراج دین کو فور ابلا لاؤ۔چنانچہ آپ گئے اور میاں صاحب موصوف کو بلا کر واپس لے آئے۔حضور نے میاں صاحب کو فر مایا کہ اس مولوی کو کچھ نہ کہو۔۲۔امرتسر کے ایک منڈ وہ میں جب حضرت صاحب کا لیکچر ہوا تو آپ بھی اپنے والد محترم کے ہمراہ امرتسر گئے تھے۔رمضان کا مہینہ تھا ایک خادم نے چائے کی پیالی پیش کر دی۔حضور نے انگلی کے اشارے سے منع بھی فرمایا مگر وہ شائد سمجھا نہیں۔اس نے پیالی آگے رکھ ہی دی۔اس پر اس قدرا ینٹ پتھر اور کنکروں کی بارش ہوئی اور شور و غوغا بلند ہوا کہ الامان والحفیظ ! حضور کو بند بگھی میں سوار کرا کر جائے قیام میں پہنچا دیا گیا۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ ” میرا سر بھی پھٹا اور قمیص کا گریبان خون سے تر ہو گیا۔ڈیرہ پر پہنچ کر حضرت والد صاحب نے حضرت اقدس سے خیریت پوچھی اور کہا کہ حضور! میرے لڑکے کا سر بھی پھٹا ہے۔حضور نے مجھے بلا لیا اور آہستہ آہستہ اپنا دستِ مبارک میرے سر پر پھیرتے رہے اور باتیں کرتے رہے دو تین منٹ کے بعد ہم سب لوگ دوسرے کمرے میں آگئے۔۔۱۹۰۸ء میں جب حضور احمد یہ بلڈنکس میں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان میں ٹھہرے تو میں اپنے والد صاحب اور دادا صاحب کے ہمراہ زیارت کے لئے جایا کرتا تھا۔جس روز حضور کا وصال ہوا ہے اس روز بھی میں والد صاحب کے ہمراہ حضور کے لئے کھانا لے کر گیا تھا۔یہ کھانا حضور کے سامنے پیش کیا گیا تو حضور نے انگلی سے چکھ کر واپس فرما دیا۔والد بزرگوار نے مجھے کھانا گھر پر چھوڑ آنے کو کہا۔میں نے بہت جلدی سے حکم کی تعمیل کی اور واپس احمد یہ بلڈنگس پہنچ گیا۔اس وقت ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے ساتھ ایک انگریز ڈاکٹر غالباً کرنل سدر لینڈ مکان کے باہر کھڑے تھے۔اس واقعہ کے ایک یا دو گھنٹے کے بعد حضور کا وصال ہو گیا۔اس وقت میری عمر ۱۵۔۱۶ سال کی تھی۔میں نے اپنی زندگی میں تین چار مرتبہ حضرت اقدس کی بیعت کی تھی۔میں نے حضور کے چہرہ مبارک کو ہمیشہ نورانی اور ہشاش بشاش دیکھا۔خفگی کے آثار کبھی نہیں دیکھے۔حضور دن کے وقت مضمون