لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 297 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 297

297 لائے ہوئے تھے اور ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب کے مکان میں فروکش تھے۔جب ہم وہاں پہنچے تو میاں فضل حسین صاحب جو بعد میں سر کہلائے اور میاں شاہ نواز صاحب بیرسٹر خواجہ کمال الدین صاحب اور ڈاکٹر محمد حسین صاحب کے مکانات کے درمیان کی گلی میں ایک چارپائی پر بیٹھے تھے اور حضور سے ملاقات کی درخواست کر رکھی تھی۔ہمارے پہنچنے پر حضور معا باہر تشریف لے آئے۔ایک چار پائی خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان کی کھڑکی کے نیچے گلی میں بچھائی گئی اور ایک چار پائی ڈاکٹر محمد حسین صاحب کے مکان کے ساتھ اور تیسری چار پائی سڑک کی جانب بچھائی گئی پہلی چارپائی پر حضور جلوہ افروز ہوئے۔دوسری بالمقابل چار پائی پر میاں فضل حسین صاحب اور میاں شاہنواز صاحب بیٹھ گئے۔تیسری چارپائی پر میں اور حافظ عبدالکریم صاحب دہلوی بیٹھ گئے خواجہ کمال الدین صاحب تشریف لائے اور وہ حضور کی چار پائی کی پائنتی پر بیٹھ گئے اور سلسلہ کلام یوں شروع ہوا: میاں فضل حسین : حضور! مسلمانوں میں پھوٹ پڑ رہی ہے۔حضور علیہ السلام : ہاں نہیں بھی یہی غم کھا گیا ہے کہ جس گھر میں پھوٹ پڑی ہوئی ہو۔دشمن کا کیا مقابلہ کر سکتا ہے۔میاں صاحب: حضور! آپ نے بھی تو جماعت کو الگ کر دیا ہے۔حضور : ہم نے جماعت کو الگ نہیں کیا بلکہ مولوی محمد حسین صاحب نے ہم پر کفر کا فتویٰ لگایا اور بڑی تکلیف اٹھا کر ہندوستان میں سفر کر کے علماء سے اس پر مہریں لگوائیں۔اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ جو شخص مومن کو کافر کہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔لوگ اس پر عمل نہ کریں مگر میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں چھوڑ سکتا۔میاں فضل حسین : حضور ! فتویٰ لگانے والے علماء مر گئے۔حضور ! ہاں۔بہت مر گئے۔ابھی کچھ زندہ ہیں۔میاں صاحب: حضور ! سب مر گئے۔حضور علیہ السلام نے اس موقعہ پر تبسم فرما کر کہا کہ اچھا ہم نے مان لیا کہ سب مر گئے مگر موجودہ علماء میں سے دو چار سے آپ یہ شائع کروا دیں کہ ہم مرزا صاحب کو کا فرنہیں کہتے تو میں جماعت کو حکم دے دوں گا کہ وہ مل کر نماز میں پڑھیں