لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 280
280 چند سال بعد فوت ہو گئے۔اولاد: عمر حیات۔عائشہ بی بی۔خدیجہ بی بی۔مریم۔رحمت بی بی حضرت بابا ہدایت اللہ صاحب ولادت : ۲۶۔جولائی ۱۸۳۲ء بیعت : ۱۹۰۰ ء یان ۱۹ ء وفات : ۱۲۔جنوری ۱۹۲۹ء عمر : ۹۶ سال حضرت بابا ہدایت اللہ صاحب پنجابی کے مشہور شاعر ہو گزرے ہیں۔آپ کی سی حرفیاں آج بھی زباں زد خلائق ہیں۔اگلے دن میں انار کلی کے قریب ایک پنجابی کتابوں کی دکان سے گذر رہا تھا تو اچانک میری نظر ایک چھوٹے سے رسالے پر پڑی۔جب بغور دیکھا تو وہ بابا ہدایت اللہ صاحب کی سہ حرفیوں کا مجموعہ تھا اور سرورق پر حضرت بابا صاحب کے خیالی تصور تھی جو ہاتھ سے بنائی گئی تھی اور آگے حقہ رکھا ہوا تھا۔حالانکہ بابا ہدایت اللہ صاحب خدا تعالیٰ کے فضل سے مخلص صحابی تھے اور حقہ بالکل نہیں پیتے تھے۔مگر پتہ نہیں لوگوں کو کیا ہو گیا کہ وہ سمجھتے ہیں حقہ یا شراب کا استعمال نہ کرنے والا اعلیٰ درجہ کا شاعر ہی نہیں ہوسکتا۔بہر حال حضرت بابا صاحب کی بیعت ۱۹۰۰ ء۔یا انشاء کے لگ بھگ کی ہے اور روایات سے ثابت ہے کہ جب حضور مولوی کرم دین صاحب سکنہ بھین ضلع جہلم کے ساتھ مقدمات کے سلسلہ میں گورداسپور میں قیام فرما تھے تو ان دنوں بھی بابا صاحب گورداسپور تشریف لے گئے تھے۔محترم بابا قادر بخش صاحب کی روایت ہے کہ بابا جی بیان کیا کرتے تھے کہ حضرت صاحب نے اپنے خدام کو حکم دیا تھا کہ بابا ہدایت اللہ صاحب بوڑھے آدمی ہیں۔ان کی چار پائی کے پاس ایک لوٹا پانی کا رکھ دیا جائے تا رات کے وقت پانی کی تلاش میں انہیں تکلیف نہ ہو۔حضرت بابو غلام محمد صاحب فورمین بیان فرمایا کرتے تھے کہ جب ہم ۱۹۰۷ء میں حضرت مولوی غلام حسین صاحب متولی گئی مسجد لاہور کی نعش لے کر قادیان گئے تو ہم چاہتے تھے کہ انہیں بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جائے مگر معتمدین نے اعتراض کیا کہ ان کی وصیت کوئی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب ان کے اس اعتراض کا علم ہوا تو حضور نے فرمایا۔ان کی وصیت کی کیا ضرورت ہے؟ یہ تو مجسم وصیت ہیں۔یہ ہوئے خلیفہ ہدایت اللہ صاحب لاہوری ہوئے، ایسے لوگوں کی وصیت کی کیا ضرورت ہے۔“