لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 279 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 279

279 لگ بھگ ہو گی۔پہلے لوکو ورکشاپ میں ملازم تھے۔وہاں سے ریٹائر ہونے کے بعد اب گنج مغلپورہ میں ہی کریانہ کی دوکان کرتے ہیں۔اولاد : ایمنہ۔عبدالستار قمر۔نذیراں۔بشیراں حضرت حکیم جلال الدین صاحب گنج مغلپورہ ولادت : انداز ۱۸۵۴۴ء بیعت : ۱۹۰۰ ء وفات: ۱۹۴۴ء عمر : ۹۰ سال محترم مستری عباس محمد صاحب گنج مغلپورہ نے بیان کیا کہ حضرت حکیم جلال الدین صاحب میرے پھوپھا تھے۔ان کو تبلیغ میرے والد صاحب مستری جمال الدین صاحب نے کی تھی اور ان ہی کی تبلیغ سے حضرت حکیم صاحب نے بیعت کی تھی۔حکیم صاحب دراصل موضع لبا نوالہ ( جو لاہور سے ۱۰۔۱۵ میل کے فاصلہ پر نارووال لائن کے پاس ہے ) کے باشندہ تھے اور بچپن ہی سے لاہور میں آمد و رفت تھی۔یہاں ہی کسی زرگر سے زرگری کا کام سیکھا تھا اور پھر یہاں ہی رہائش اختیار کر لی تھی۔پہلے پرانے گنج ،، میں رہائش تھی۔پھر جب موجودہ گنج بنا تو یہاں آ گئے۔پرانے گنج میں بھی انہوں نے اپنا مکان بنالیا تھا اور اس گنج میں بھی۔لاہور کے بازار محلہ تیز ابیاں میں زرگری کی دکان تھی مگر یہاں آ کر حکمت کی دکان کر لی۔اور آخر وقت تک حکمت ہی کرتے رہے۔۱۹۴۴ء میں وفات پائی۔اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔آپ بڑے بزرگ آدمی تھے۔جب فوت ہو کر نعش قادیان لے جانے کیلئے تیار کی گئی تو غیر احمد یوں نے کہا کہ اس بزرگ کی تو یہاں خانقاہ بنانی چاہئے تھی تا ہر خاص و عام زیارت کرتا۔آپ غرباء کو مفت دوا دیا کرتے تھے۔بلکہ بعض اوقات شربت اور خوراک وغیرہ کے لئے نقدی بھی دے دیا کرتے تھے۔بڑے عبادت گزار تھے۔آپ نے وصیت اپنی وفات سے چار ماہ قبل کی تھی۔حکیم صاحب کے بڑے بھائی عبداللہ صاحب بھی صحابی تھے اور ان کے ساتھ ہی رہا کرتے تھے۔بیعت دونوں بھائیوں نے ایک ہی زمانہ میں کی تھی۔وہ دسمبر ۱۹۲۴ء میں فوت ہوئے تھے اور یہاں ہی دفن ہوئے۔وہ ترکھانہ کام کیا کرتے تھے۔ایک ان کے تیسرے بھائی تھے مگر انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بیعت نہیں کی تھی۔۱۹۲۷ء میں بیعت کی تھی اور