لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 274 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 274

274 سے بہت تھوڑی مدت کے لئے آپ پھر رامپور تشریف لے گئے تھے۔ان ایام میں حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس اور خاکسار راقم الحروف کسی دورہ کے سلسلہ میں رامپور گئے اور چند یوم حضرت خاں صاحب کے ہاں قیام کیا۔وہاں خاں صاحب جس شفقت و مہربانی سے ہمارے ساتھ پیش آئے یہ انہی کا حصہ تھا۔ریاست میں آپ کو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت رسوخ حاصل تھا۔رامپور میں آپ کا تشریف لے جانا غالبا والی رامپور کی خواہش کا نتیجہ تھا۔مگر وہاں آپ کا دل نہیں لگا اور جلد ہی واپس قادیان چلے آئے۔آپ بے حد خلیق اور ملنسار انسان تھے۔ہمدرد بھی اس قدر تھے کہ خاکسار کو قا دیان گئے ابھی چند ہی سال ہوئے اور خاکسار مدرسہ احمدیہ کا طالب علم تھا کہ بیمار ہو گیا۔نور ہسپتال میں زیر علاج تھا۔خاں صاحب وہاں تشریف لے گئے یہ دیکھ کر کہ ہسپتال میں کھانے کا انتظام اچھا نہیں مجھے اپنے گھر لے گئے اور چند ماہ وہاں رکھا۔ان دنوں اخویم محترم مولانا عبد المالک خاں صاحب مربی سلسلہ احمدیہ ابن حضرت خاں صاحب اور خاکسار ایک ہی کلاس کے طالب علم تھے۔مجھے یاد ہے حضرت خاں صاحب کی ملاقات کے لئے ان کے چھوٹے بھائی جناب مولا نا محمد علی و مولانا شوکت علی صاحبان جو علی برادران کے نام سے مشہور تھے قادیان جایا کرتے تھے۔تقسیم ملک سے قبل کراچی میں کسی کانگریسی لیڈر نے آپ سے پوچھا کہ آپ کے دو چھوٹے بھائیوں نے تو ملک کی آزادی کیلئے مسٹر گاندھی کے ساتھ مل کر جد و جہد کی مگر آپ نے اس کوشش میں کوئی حصہ نہیں لیا۔آپ نے جواب دیا میں بڑا بھائی تھا اس لئے میں نے اپنے ذمہ بڑا کام لیا۔اس نے پوچھا۔کونسا ؟ فرمایا۔ساری دنیا شیطان کی غلامی میں پھنسی ہوئی ہے اور ساری دنیا کو آزاد کرا نا ہند وستان کی آزادی سے بڑا کام ہے۔اس لئے میں اس تحریک میں شامل ہوں اور اس کا سپاہی ہوں جس تحریک کا یہی مقصد ہے یعنی تحریک احمدیت۔۳۹ ملک کے بعد آپ نے اپنے بچوں کے ہمراہ لاہور میں سکونت اختیار کی اور یہیں ۲۶۔فروری ۱۹۵۴ء کو ۸۵ سال کی عمر پا کر انتقال فرمایا اور بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ خاص میں مدفون ہوۓ انا لله و انا اليه راجعون اولاد : ممتاز علی خان مرحوم۔ہادی علی خان مرحوم۔عبداللہ۔رضا علی۔اسماعیل۔سلیمہ بیگم اہلیہ کرنل