لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 260
260 پھیل جایا کرتے تھے۔مولوی صاحب بھی اس تبلیغ میں بڑے ذوق شوق سے حصہ لیا کرتے تھے۔جب حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل کے وصال پر جماعت میں اختلاف پیدا ہوا تو مبائعین کا مرکز حضرت میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور کی بیٹھک بن گیا۔آپ فرماتے تھے کہ اس زمانہ میں حضرت سید دلاور شاہ صاحب اور حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل تبلیغ سلسلہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔سید دلاور شاہ صاحب خطبات بھی دیتے تھے۔مباحثے بھی اور تقریریں بھی کرتے تھے۔محترم شیخ عبدالحمید صاحب ریلوے آڈیٹر مالیات کا کام کرتے تھے اور حضرت قریشی محمد حسین صاحب مفرح عنبری والے سلسلہ کے لئے چندوں میں اور غرباء کی امداد میں بیش بہا حصہ لیا کرتے تھے۔مولوی صاحب موصوف کو اپنے عرصہ قیام لاہور میں ربع صدی کے قریب خدمت کا موقعہ ملا۔اس عرصہ میں آپ سیکرٹری تبلیغ ، سیکرٹری تعلیم و تربیت سیکرٹری ضیافت ناظم مسجد دہلی دروازه اور امام الصلوۃ کے طور پر خدمات بجالاتے رہے۔اولاد: امتہ الحئی۔مطیع الرحمن - امتہ المجیب۔سعیدہ فرخ۔امتہ الباسط۔راشدہ نسرین۔حامد عزرا۔الطاف الرحمن۔حضرت حکیم احمد دین صاحب شاہدرہ ولادت: بیعت : ۱۸۹۹ء وفات: دسمبر ۱۹۳۸ء آپ فرماتے تھے کہ ۱۹۰۰ ء کے لگ بھگ کا ذکر ہے ہم قادیان گئے۔حضور کا کوئی مقدمہ تھا اور دھار یوال میں پیش ہونا تھا۔حضور معہ اصحاب چل پڑے۔راستہ میں ایک گاؤں آیا۔جس کی مالکہ ایک سکھ عورت تھی۔گاؤں کے ساتھ ایک کنواں تھا۔حضرت اقدس کے حکم سے ہم وہاں ٹھہر گئے تا کہ ظہر و عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھ لیں۔چنانچہ حضرت اقدس کی اقتداء میں ہم لوگوں نے ظہر وعصر کی نمازیں پڑھیں۔حضرت مولوی نور الدین صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اگلے گاؤں میں پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔اور وہاں ہی شب باشی کا انتظام تھا اور وہ گاؤں میل دومیل آگے تھا۔حضور کا ارادہ تھا کہ نمازیں جمع کر کے ہم بھی اس گاؤں میں پہنچ جائیں گے۔مگر اس گاؤں کی مالکہ ایک سردار نی نے اپنے ایک مسلمان کا ر مختار کے ہاتھ کھانڈ کا شربت بھیجا اور حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ آپ