لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 259 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 259

259 ایک دن حضور سیر کے لئے باہر تشریف لائے تو والد صاحب کے ہمراہ خاکسار بھی چوک میں حضور کا انتظار کر رہا تھا۔حضور نے آتے ہی والد صاحب سے دریافت کیا کہ چائے پی لی ہے؟ والد صاحب نے عرض کیا کہ حضور میں عادی نہیں۔لیکن حضور واپس اپنے مکان میں تشریف لے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد ملازم کے ہاتھ ایک خوان لے کر واپس تشریف لائے اور والد صاحب کو فرمایا کہ چائے پی لیں۔والد صاحب نے معذرت بھی کی لیکن حضور نے اصرار فرمایا۔اس پر میں اور والد صاحب اوپر چلے گئے اور چائے پی۔حضرت والد صاحب کو یہ احساس تھا کہ حضور نیچے انتظار فرما رہے ہیں۔اس لئے انہوں نے جلدی جلدی چند گھونٹ پینے اور نیچے اتر آئے۔مگر خاکسار آہستہ آہستہ چائے پیتا رہا۔تھوڑی دیر کے بعد والد مرحوم بھاگتے ہوئے آئے اور جلد چائے پینے کو کہا۔اس پر میں نے بھی چائے ختم کی اور نیچے آ گیا۔پھر حضور سیر کیلئے روانہ ہوئے۔مگر تھوڑی دور جا کر خاکسار کو واپسی کا حکم دیا کہ تم تھک جاؤ گے۔اس پر خاکسار کا دل اگر چہ واپس آنے کو نہ چاہتا تھا۔مگر تعمیل ارشاد میں واپس آ گیا۔چند دن والد صاحب کے ہمراہ وہاں رہ کر واپس حاجی پورہ چلا گیا۔خاکسار ۱۹۰ء سے لیکر ۱۹۰۳ء تک مدرسہ تعلیم الاسلام میں چھٹی اور ساتویں اور آٹھویں جماعت میں تعلیم پاتا رہا۔۱۹۰۵ ء ۱۹۶۰ء میں بھی خاکسار کو دارالامان میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے۔حضور کے ساتھ پہلو بہ پہلو بہت سی نمازیں ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔حضور کی تقاریر سنے اور ایک بار حضور کے یاد کرنے پر حاضری کا شرف بھی حاصل ہوا۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ محترم مولوی صاحب نے خلافت اولیٰ اور خلافت ثانیہ کے زمانہ میں جماعت لاہور میں بہت قابل قدر کام کیا ہے۔آپ کی اصل رہائش ریاست کپورتھلہ میں پھگواڑہ کے قریب ایک گاؤں حاجی پورہ میں تھی۔آپ کے والد ماجد حضرت میاں حبیب الرحمن صاحب اوّل درجہ کے مخلصین میں سے تھے۔بغرض ملازمت آپ ۱۹۱۰ء میں لا ہور تشریف لائے اور جنرل پوسٹ آفس میں ملازمت اختیار کر لی۔پہلے چند روز پرانی انارکلی میں اپنے کسی عزیز کے ہاں قیام فرمایا۔مگر پھر جماعتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے شوق میں احمد یہ بلڈنگس میں ایک چوبارہ کرایہ پر لے لیا۔خلافت اولیٰ کا زمانہ تھا۔جماعت میں اتفاق و اتحاد تھا۔وفود کی شکل میں احباب تبلیغ کے لئے شہر میں