لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 25 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 25

25 نہیں کھایا ؟ نوکر نے جواب دیا کہ مرزا صاحب نے فرمایا ہے کہ گھر پر ہی آ کر کھاتا ہوں۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد آپ ہشاش بشاش شاہ صاحب کے مکان پر پہنچے۔شاہ صاحب نے پوچھا کہ آج آپ اتنے خوش کیوں ہیں؟ کیا فیصلہ ہوا ؟ فرمایا مقدمہ تو خارج ہو گیا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ آئندہ اس کا سلسلہ ختم ہو گیا۔گویا آپ کو خوشی اس امر سے ہوئی کہ مقدمہ سے فراغت حاصل ہونے کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے کے لئے فرصت مل گئی۔حالانکہ اگر کوئی دنیا دار ہوتا تو مقدمہ میں ہار جانے کی وجہ سے اس کے چہرہ پر ایک رنگ آتا اور ایک جاتا۔مگر آپ کو کچھ ملال نہ ہوا۔اللهم صلى على محمد وال محمد پھر جون ۱۸۷۶ء میں جبکہ آپ کے والد ماجد کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس وقت بھی آپ ایک زمینداری مقدمہ کے سلسلہ میں لا ہو رہی میں تھے۔یہاں آپ کو ایک خواب کے ذریعہ اطلاع دی گئی کہ آپ کے والد ماجد کی وفات کا وقت قریب ہے۔چنانچہ آپ اسی روز قادیان پہنچے اور دوسرے دن آپ کے والد ماجد وفات پاگئے۔فانا لله وانا اليه راجعون۔تصنیف براہین احمدیہ کے دوران میں بھی آپ کی لاہور میں آمد ورفت رہی۔میری غرض ان واقعات کے پیش کرنے سے یہ ہے کہ حضور دعویٰ مسیحیت و مہدویت سے قبل بھی متعد دمرتبہ لاہور میں تشریف فرما ہوتے رہے۔اور یہ تو عام معروف واقعات ہیں۔ورنہ سیالکوٹ آتے جاتے بھی آپ یقیناً حضرت میاں چراغ دین صاحب یا بعض دوسرے دوستوں کے ہاں قیام فرماتے ہوں گے۔دعوی ماموریت کے بعد لاہور میں حضور کی آ۔اب ہم دعوی ماموریت کے بعد کے واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔جہاں تک تاریخ ساتھ دیتی ہے۔دعویٰ ماموریت کے بعد سب سے پہلے آپ جنوری ۱۸۹۲ء فاضل مصنف کو غلطی لگی ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی ماموریت کے بعد اور ۱۸۹۳ء سے قبل لاہور جانا ثابت ہے۔مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر سوم میں پوسٹ کارڈ نمبر۱۷۷ کے زیر عنوان حضرت مسیح