لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 258
258 اسی طرح حضرت والد صاحب نے تصویر کے متعلق پوچھا۔حضور نے تعجب سے فرمایا کہ اچھا ہمارے دوستوں نے بھی تصویر میں خریدی ہیں۔ہماری غرض یہ تو نہ تھی کہ دوست اپنے پاس رکھیں۔اگر آپ نے خریدی ہے تو کہیں ڈال چھوڑ ہیں۔بٹالہ سے والد صاحب ایک یکہ میں آئے تھے۔ایک ساتھ والے یکہ میں شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر لاہور بھی تھے۔ہمارا یکہ جب مہمان خانہ کے دروازہ پر پہنچا تو والد صاحب نے حافظ حامد علی صاحب کو آواز دی اور یکہ میں سے خلاف معمول کو دکر حضرت مسیح موعود کی طرف بھاگتے ہوئے چلے گئے۔خاکسار کو کو چوان نے اتار دیا اور اسباب یکہ سے نکال دیا۔میں اس بات کو دیکھ کر حیران کھڑا تھا کہ حافظ حامد علی مہمانخانہ سے باہر آئے اور پوچھا کہ یہ اسباب میاں حبیب الرحمن صاحب کا ہے اور اٹھا کر اندر لے گئے اور خاکسار کو بھی ساتھ لے گئے۔کچھ دیر بعد حضرت والد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملاقات کر کے واپس تشریف لائے۔ہمارے لئے قیام کی جگہ حضرت مولوی نورالدین صاحب کے مطب کے اوپر کے کمرہ میں تھی اور اس جگہ چند یوم قیام کر کے واپس چلے گئے۔حضرت مسیح موعود کی خدمت میں جب والد صاحب نے مجھے پیش کیا تو عرض کی کہ حضور ا سے بیعت کروانے کے لئے لایا ہوں۔حضور نے فرمایا۔اس کی تو بیعت ہی ہے یا یہ کہ یہ تو بیعت میں ہی ہے۔بیعت کرانے کی کیا ضرورت ہے۔لیکن والد صاحب نے عرض کیا کہ حضور بیعت میں داخل ہو کر دعاؤں میں شامل ہو جائے گا اس پر حضور نے فرمایا کہ آج شام کو بیعت کر لیں گے۔چنانچہ شام کو بعد نماز مغرب خاکسار نے بیعت کی۔اس وقت اور لوگوں نے بھی بیعت کی تھی۔مسجد مبارک میں خاکسار نمازوں میں شامل ہوتا تھا۔اس وقت خراس موجود تھا لیکن او پر چھت نہ تھی اور خر اس کی عمارت اور گول کمرہ کے پردہ کی دیوار کے درمیان کچھ دیوار بنی ہوئی تھی۔جس کی وجہ سے ہمیں چکر کاٹ کر مسجد میں جانا پڑتا تھا۔میں نے والد صاحب سے دریافت بھی کیا تھا کہ یہ دیوار کیوں بنی ہوئی ہے؟ اگر یہ دیوار نہ ہو تو راستہ سیدھا ہے۔والد صاحب نے جو جواب دیا وہ مجھے یاد نہیں رہا۔