لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 255
255 ولادت: محترم میاں محمد امین صاحب بیعت : ۱۸۹۸ ء یا اس سے قبل وفات: محترم میاں محمد امین صاحب ڈنگہ ضلع گجرات کے باشندہ تھے۔ریلوے ایگزامینر دفتر لاہور میں ملازم تھے۔لاہور کے کسی حلقہ کے سیکرٹری مال بھی تھے۔تین بھائی تھے۔میاں گل حسن، غلام حسن اور میاں محمد امین۔تینوں صحابی تھے۔ان کے والد محترم بھی صحابی تھے۔میاں محمد امین صاحب ملا زمت سے فارغ ہو کر قادیان چلے گئے تھے۔وہیں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔فان اللہ و انا اليه راجعون نوٹ : رسالہ ” واقعہ ناگزیر، مشتمل بر حالات حضرت سید فصیلت علی شاہ صاحب مرحوم انسپکٹر پولیس مصنفہ حضرت سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی کے صفحہ ۲۷۔۲۸ پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا ایک خط درج ہے جس پر تاریخ ۱۱۔ستمبر ۱۸۹۸ لکھی ہے۔اس خط میں احباب لاہور کی ایک فہرست بھی دی گئی ہے اس فہرست میں میاں گل حسن اور میاں غلام حسن مجید کے نام بھی درج ہیں۔یہ خط اس امر کا ثبوت ہے کہ ان حضرات کی بیعت بہر حال ۱۸۹۸ء کی یا اس سے پہلے کی تھی۔محترم میاں محمد سلطان صاحب در زمی وفات: ولادت : ۱۸۸۰ء بیعت : ۱۸۹۸ء سے قبل لاہور کے ایک صحابی حضرت میاں محمد سلطان صاحب درزی کا ذکر حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی کتاب ”احمد صادق کے صفحہ ۸۴ پر آتا ہے۔اس میں حضرت مفتی صاحب نے لکھا ہے کہ میاں محمد سلطان صاحب لاہور میں درزی کا کام کرتے تھے۔انہوں نے ۱۸۹۹ء میں جب کہ حضرت اقدس کتاب ” مسیح ہندوستان میں لکھ رہے تھے۔ذکر کیا کہ وہ ایک دفعہ افعانستان گئے تھے اور وہاں ایک دیکھی تھی جو لا مک نبی کی قبر کے نام سے مشہور تھی۔اس پر حضرت نے مفتی صاحب سے فرمایا کہ محترم ڈاکٹر عبید اللہ خان صاحب فرماتے ہیں کہ غلام حسن نہیں غلام حسین تھا۔بھائی کا نام بے شک گل خان تھا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر جاتے ہوئے حضرت مسیح علیہ السلام افغانستان میں کسی جگہ چند روز ٹھہرے ہیں اور وہاں کے لوگوں نے یادگار کے طور پر قبر بنالی ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔(مؤلف) قبر