لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 250
250 ۱۶۔جلسہ سالانہ کا موقعہ تھا اور یہ مہمان خانہ (حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب والا مکان ) نیا بنا ہی تھا خواجہ کمال الدین صاحب کو خیال تھا کہ آج شب دیگ پکائیں۔شب دیگ کیا ہوتی ہے کہ ایک بکرا ذبح کروا کر اس میں شلجم آدھے آدھے کروا کر اور کافی مقدار میں گھی ڈال کر دیگ چولہے پر چڑھا دی جاتی ہے اور وہ ساری رات چولہے پر رہتی ہے۔خواجہ کمال الدین صاحب نے لنگر خانہ میں یہ آرڈر دے دیا کہ ایک بکرا ذبح کر کے فوراً لا ؤ اور کافی مقدار میں شلجم اور گھی لاؤ اور شام کے وقت باورچی کو بلا کر کہا کہ دیگ چولہے پر رکھ دو۔دسمبر کا مہینہ تھا۔گوشت بھون کر اس میں شلجم ڈال کر چولہے پر رکھ دیا گیا۔وہ پک رہا تھا اور خواجہ صاحب تو کسی اور جگہ ٹھہرے ہوئے تھے مگر میں اس مہمان خانہ میں ہی تھا۔آدھی رات کے وقت مجھے سیڑھیوں میں سے کسی کے اترنے کی آواز آئی۔میں چوکنا ہو گیا۔جب دیکھا تو حضرت صاحب اپنے مکان سے نیچے اتر رہے تھے۔میں تو حضور کو دیکھ کر سہم گیا۔حضور نے فرمایا۔کیا پک رہا ہے؟ میں نے کہا۔حضور یہ شب دیگ ہے۔فرمایا۔شب دیگ کیا ہوتی ہے؟ میں نے اس کی تفصیل عرض کر دی۔فرمایا۔کس نے پکوائی ہے؟ میں نے عرض کیا۔حضور یہ خواجہ صاحب نے پکوائی ہے۔حضور یہ سن کر خاموش ہو گئے مگر حضور کا چہرہ کسی قدر متغیر ہو گیا۔میں وہاں لیٹا ہوا تھا۔رات کا کافی حصہ گذر گیا۔آگ بجھ گئی۔تین چار کتے آئے۔انہوں دیگ کو نیچے پھینکا اور گوشت کھانے لگ گئے۔جب سحری کا وقت ہوا اور ہم نے دیکھا کہ دیگ نیچے پڑی ہے تو ہم نے خواجہ صاحب کو بلایا۔وہ بھی تشریف لے آئے۔دیکھ کر بہت پریشان ہوئے۔فرمانے لگے۔یہ باقی جو بچ گئی ہے اس کا کیا کیا جائے۔آپ ہی فرمانے لگے۔حضرت صاحب سے نماز کے بعد مسئلہ پوچھیں گے کہ آیا چوہڑے کو دے دی جائے۔کیا جائز ہے؟ جب حضور سے پوچھا گیا تو حضور نے فرمایا کہ ایسا کرنے سے پہلے چوہڑے کو پوچھ لینا چاہئے کہ آیا وہ کتے کا جھوٹا کھانا پسند کریں گے؟ اس کے بعد حضور نے کچھ ایسے الفاظ فرمائے جن کا مفہوم یہ تھا کہ یہ اسراف ہے۔جب دن نکلنے پر چوہڑے کو پوچھا گیا تو اس نے کہا۔میاں آپ ہی کھاؤ ہم نہیں کھاتے۔۱۷۔ایک مرتبہ ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور میں دو پہر کے وقت قادیان