لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 249 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 249

249 جائیں۔وہ اوپر آگئے۔بعد سلام عرض کی کہ حضور تشریف لے چلیں۔حضرت صاحب اس کے ساتھ نیچے اتر آئے اور فٹن میں بیٹھ گئے۔وہ بائیں طرف بیٹھ گیا۔میں با ہر فٹن کے فٹ پاتھ پر کھڑا ہو گیا کوئی ایک دو دوست آگے بھی کھڑے ہو گئے کوئی پیچھے بھی کھڑے ہو گئے۔فٹن آہستہ آہستہ چل پڑی۔فٹن کے آگے ایک رسالہ تھا اور سڑک کے دونوں طرف پولیس کافی تعداد میں کھڑی تھی۔سوار بھی پھر رہے تھے اور گوروں کی پلٹنیں اس کے علاوہ تھیں۔لوگ کہتے تھے کہ یہ مرزا ہے یا کٹک آ گیا ہے ( کٹک کے معنی فوج ہی فوج کے ہیں ) جب منڈ وہ پہنچے تو اس کے ارد گرد بھی گورا پلٹنیں تھیں اور کچھ فاصلہ پر پولیس کا انتظام بھی کافی تھا۔جب اندر داخل ہوئے تو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے لیکچر پڑھنا شروع کیا۔ہزار ہا آدمیوں کا مجمع تھا۔سناٹا چھایا ہوا تھا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی آواز تھی کہ حشر تھا۔بعض گورے کہتے تھے کہ اتنا لاؤڈ بولنے والا ہم نے اپنی لائف میں نہیں دیکھا۔منڈوہ کے باہر بھی فرلانگ فرلانگ تک مولوی صاحب کی آواز جاتی تھی اور صحیح سنی جاتی تھی۔جب لیکچر ختم ہوا تو لوگوں کے اصرار پر حضرت صاحب بھی کھڑے ہوئے کیونکہ وہ حضور کی زبان مبارک سے کچھ سنا چاہتے تھے۔حضرت صاحب نے چند منٹ تقریر فرمائی۔سولہ دن حضور کا قیام لاہور میں رہا۔کھانے کا انتظام جن احباب کے سپر د تھا ان میں میں بھی شامل تھا۔غالباً خلیفہ رجب دین صاحب نے کسی مہمان کو کہہ دیا کہ پانی بھی ساتھ پیو۔یہ بات کسی طرح سے حضرت اقدس کے حضور بھی پہنچ گئی کہ مہمانوں کو تنگ کیا جاتا ہے اور کھانا خاطر خواہ نہیں ملتا۔حضور باہر تشریف لائے اور دروازہ میں کھڑے ہو کر فرمایا۔کون منتظم ہے؟ ہم نے عرض کیا۔حضور! ہم حضور کے خادم ہیں۔فرمایا۔میں نے سنا ہے کہ مہمانوں کو کھانا اچھا نہیں ملتا اور بعض کو کہا جاتا ہے کہ بازار سے کھاؤ۔کیا یہ صحیح بات ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ حضرت بے تکلفی میں کسی نے کہہ دیا ہے ورنہ انتظام سب ٹھیک ہے۔فرمایا۔نہیں ! ہم اپنے لنگر کا انتظام خود کریں گے۔مہمان ہمارے ہیں اور لنگر کا انتظام بھی ہمارے ہی ذمہ ہے۔بعض دوستوں نے مل کر معافی کی درخواست کی اور آئندہ احتیاط کا وعدہ کیا۔حضور نے معاف فرما دیا اور لنگر جماعت لاہور کی طرف سے جاری رہا۔