لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 246 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 246

246 رکھے ہوئے تھے۔لوگ زیارت کر کے جاتے تھے۔ہند ولوگ میت کو دیکھ کر ہاتھ جوڑ کر سلام کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ تو زندہ ہی لیٹے ہوئے ہیں ان کے چہرہ پر موت کا کوئی نشان نہیں ہے۔اس روز ہم نے دوپہر کے وقت لوگوں کو پے در پے زیارت کرائی۔پیر جماعت علی شاہ صاحب نے باہر سٹرک پر جمگھٹا لگایا ہوا تھا اور لوگوں کو کہتا تھا کہ مرزا صاحب کو ( نعوذ باللہ ) جذام ہو گیا ہے۔کبھی کہتا تھا کہ ہیضہ سے مر گئے ہیں۔لوگوں نے اس کی باتوں سے متاثر ہوکر شہر میں ایک جلوس نکالا۔ایک آدمی کا منہ کالا کر دیا۔اس کو میت بنا کر چار پائی پر لٹا دیا اور بازاروں میں گھوم کر کہنا شروع کر دیا کہ ہائے ہائے مرز ا مر گیا اور بھی کئی قسم کی بیہودہ آوازیں نکالتے تھے۔غرض جب لوگ زیارت کر چکے تو خلیفہ رجب الدین صاحب نے اپنی کنگھی جیب سے نکالی اور حضرت اقدس کی داڑھی مبارک میں کنگھی کی تاکہ بال سیدھے ہو جائیں اور جو بال اس میں سے کنگھی کے ساتھ نکلے وہ انہوں نے اپنے پاس رکھ لئے۔اس کے بعد حضرت صاحب کا جنازہ اٹھا کر صندوق میں برف ڈال کر بند کر دیا گیا۔اوپر روٹی رکھ دی گئی اور گاڑی پر بٹالہ تک لے گئے۔میں اس ڈبہ میں بیٹھا تھا جس میں نعش مبارک تھی۔ایک دو اور آدمی بھی تھے جن کے نام اس وقت مجھے یاد نہیں۔۱۲۔شیخ رحمت اللہ صاحب نے جب اپنے بھائی شیخ محبوب علی صاحب سے دکان الگ کی اور ٹھنڈی سٹرک پر لے گئے تو ان ایام میں حضرت اقدس لاہور میں تھے۔انہوں نے حضرت صاحب کو دعوت دی اور دکان میں سے گزار کر دکان کے پیچھے جو کمرہ تھا اور نشست گاہ کا کام دیتا تھا اس میں لے جانے کی کوشش کی۔مگر حضرت صاحب نے دکان سے گذر کر جانا منظور نہ کیا۔کسی دوسرے راستہ سے گذر کر وہاں پہنچے۔فرمایا کہ ہم دکان سے گذر کر نہیں جائیں گے۔میں بھی حضرت صاحب کے ساتھ ہی اس کمرہ میں گیا تھا۔باتیں ہوتی رہیں۔شیخ صاحب نے بمبئی کے سرخ کیلوں کا ایک گچھا پیش کیا۔حضور نے فرمایا مجھے زکام ہے میں نہیں کھا سکتا۔انہوں نے بہت اصرار کیا کہ حضور ایک تو کھا ئیں۔حضور نے ان کے اصرار پر ایک کیلا اپنے ہاتھ میں لیا اور چھیل کر تناول فرمایا۔جس سے حضور کو کچھ تکلیف ہوئی اور فرمایا