لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 245
245 پیغاموں سے میرا دل تشویش میں پڑ گیا۔میں نے ایک اپنا خاص ملازم سائیکل سوار بھیجا کہ جاؤ! خبر لاؤ کیا بات ہے؟ میرا آدمی جاچکا تھا کہ تھوڑے عرصہ کے بعد شیخ رحمت اللہ صاحب ما لک انگلش ویئر ہاؤس معه خواجہ کمال الدین صاحب کے میری دکان پر ٹانگے میں پہنچ گئے اور کہا کہ حضرت صاحب کا وصال ہو گیا ہے۔تب میرا دل پژمردہ ہو گیا اور میں سکتہ کی حالت میں ہو گیا اور دل میں کہا کہ یا الہی ! یہ کیا ماجرا ہے۔میں نے بھی بائیسکل اٹھائی اور بھاگا۔جب وہاں پہنچا تو غیر احمدیوں کا بے شمار ہجوم با ہر نعرے لگا رہا تھا اور بکواس کر رہے تھے۔میں جب اندر گیا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب بیٹھے تھے اور وفات کا ذکر ہو رہا تھا۔پھر مجھے یقین ہوا کہ واقعی وفات ہوگئی ہے۔بعد ازاں میں اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب سٹرک پر کھڑے تھے کہ ایک مخالف شخص جو وہ بھی ڈاکٹر تھا اور اس کا نام سعید تھا۔اس نے کہا کہ مرزا فوت ہو گیا ہے۔اب بتاؤ۔تمہاری پیشگوئیاں کہاں گئیں اور وہ کس طرح پوری ہوں گی۔میں حیران تھا کہ میں کیا جواب دوں مگر ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے جواب دیا کہ وہ پیشگوئیاں اب ہمارے ذریعے پوری ہوں گی۔مجھے ان کے اس جواب سے بہت فائدہ پہنچا۔پھر ڈاکٹر محمدحسین شاہ صاحب اور مرزا یعقوب بیگ صاحب سول سرجن کو بلا لائے۔اس نے آ کر نعش مبارک کا ملاحظہ کیا اور سرٹیفکیٹ دیا۔پھر بعد اس کے خاکسار۔نور محمد (جو بعد میں جماعت سے الگ ہو گیا ) اور خلیفہ رجب الدین صاحب اور چند اور دوستوں نے ڈاکٹر محمد حسین صاحب کے مکان میں نیچے غسل دیا اور کفنایا۔اتنے میں خلیفہ رجب الدین کو خیال آیا کہ باہر لوگ مشہور کر رہے ہیں کہ مرزا صاحب کے ہاتھ پاؤں میں (نعوذ باللہ ) کوڑھ ہو گیا ہے اور یہ بات بعد میں آنے والوں کے لئے پریشانی کا موجب ہوگی۔ہم کیوں نہ لوگوں کو زیارت کرائیں۔چنانچہ میں نے خلیفہ رجب الدین صاحب کی اس بات سے اتفاق کیا۔میں اور خلیفہ صاحب سڑک پر چلے گئے اور جا کر آواز دی کہ حضرت مرزا صا حب فوت ہو گئے ہیں جو شخص زیارت کرنا چاہے بلا تمیز مذہب وملت زیارت کر سکتا ہے۔چنانچہ چالیس چالیس، پچاس پچاس لوگ اکٹھے آتے تھے اور ہم نے حضرت صاحب کے پاؤں اور ہاتھ اور منہ کھلے