لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 242 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 242

242 میرے ساتھ بہت محبت ہو گئی۔جب کبھی میں قادیان پہنچتا حضور خود ہی مجھے شرف ملاقات بخشتے۔کبھی مجھے اندر بلاتے کبھی خود باہر تشریف لاتے۔ایک دفعہ جب میں گیا تو حضور مسجد مبارک میں تشریف لائے۔اور فرمایا کہ آپ یہاں بیٹھ جائیں۔میں آپ کے لئے کچھ کھانا لاتا ہوں۔چنانچہ میں کھڑکی کے آگے بیٹھ گیا۔ابھی بمشکل پندرہ بیس منٹ گزرے ہوں گے کہ حضور سویوں کی ایک پلیٹ ہاتھوں میں تھامے ہوئے تشریف لے آئے۔اور فر مایا یہ ابھی آپ کے لئے اپنے گھر والوں سے پکوا کر لایا ہوں۔میں بہت شرمسار ہوا کہ حضور کو تکلیف ہوئی مگر دل میں خوش بھی ہوا کہ حضرت اقدس کے دست مبارک سے مجھے یہ پاکیزہ غذا میسر آئی ہے۔چنانچہ میں نے سویاں کھا کر خدا تعالیٰ کا بہت شکر ادا کیا۔پھر رات کو حضور نے مجھے فرمایا کہ آج آپ یہیں سو جائیں۔چنانچہ مسجد کے ساتھ والے کمرہ میں میں اکیلا سویا مگر رات بھر نیند نہیں آئی۔میں جاگتا ہی رہا اور دعائیں کرتا رہا اور دل میں خیال کرتا تھا کہ میرا یہاں سونا کہیں غفلت کا موجب نہ ہوا اور حضرت کو روحانی طور پر معلوم نہ ہو جائے کہ میں سویا ہوں اسی خوف سے میں جاگتا رہا اور درود شریف پڑھتا رہا اور دعائیں کرتا رہا۔جب چار بجے تو حضور خود میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ جا گئیں اب نماز کا وقت ہونے والا ہے۔میں تو پہلے سے ہی جاگتا تھا، اٹھ کھڑا ہوا اور مسجد مبارک میں آ گیا۔اتنے میں اذان ہوئی۔حضرت اقدس بھی تشریف لائے اور نماز پڑھی۔۔ایک دفعہ میں لاہور سے گیا۔میں نے اپنے پہنچنے کی اطلاع حضرت اقدس کو لکھ دی اور آپ حضرت حکیم الامت کی مجلس میں آبیٹھا۔اتنے میں مائی دادی آئی اور کہا کہ محبوب عالم جو لا ہور سے آیا ہے اس کو حضرت صاحب بلا رہے ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے میری طرف دیکھا اور تبسم فرما کر کہا کہ کام بن گیا ہے، جائیے۔جب میں چلا تو میرے پیچھے پیچھے حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی بھی چلے آئے۔حافظ صاحب نے سمجھا پر دہ تو ہوگا ہی میں بھی ملاقات کرلوں گا۔چنانچہ میں جب حضرت صاحب کے پاس اندر چلا گیا تو میرے پیچھے ہی حضرت حافظ صاحب بھی پہنچ گئے۔حضرت اقدس نے السلام علیکم کے بعد حضرت حافظ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ بلا اجازت تشریف لائے ہیں جو قرآن