لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 241
241 الله خلاف تھی۔میں نے انہیں یہ لکھ کر دے دیا کہ میرا یہی مذہب ہے کہ مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام خدا کی طرف سے نبی مہدی موعود اور محمد رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ہیں۔میں ان کی بیعت میں ہوں۔چنانچہ بعد ازاں وہ بھی مان گئے اور یہ شرط اڑادی۔وہاں میرا نکاح ہو گیا۔حضور کی خدمت میں بھی میں نے اطلاع کر دی۔حضور نے لکھا کہ یہ عورت آپ کے لئے بہت مبارک ہے۔چنانچہ میری اس اہلیہ سے ہمیں بچے پیدا ہوئے جن میں سے چارلڑ کے اور پانچ لڑکیاں زندہ ہیں اور بیوی بھی زندہ موجود ہے اور سب احمدیت کے فدائی اور بچے خادم ہیں۔۱۹۲۵ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کے عہد مبارک میں مجھے میاں محمد موسی صاحب نے ملازمت سے الگ کر دیا۔میرے پاس کوئی سرمایہ نہیں تھا۔میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کیلئے لکھا۔حضور نے دعا فرمائی۔چنانچہ حضور کی دعاؤں کی برکت سے میرے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دئیے کہ سرمایہ مہیا ہو گیا۔پھر میرے کاروبار میں بھی خدا تعالیٰ نے برکت دی۔اب چودہ سال ہو گئے ہیں (۱۹۳۹ء میں مؤلف ) کہ اپنی دوکان کر رہا ہوں۔۔جب حضور آخری بار لا ہور تشریف لائے تو ہر روز شام کو حضرت ام المومنین کے ہمراہ فٹن پر سیر کیلئے تشریف لے جاتے تھے اور میں سائیکل پر حضور کی اردل میں ہوتا تھا۔ایک روز شام کے وقت جب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان پر سیر سے واپس پہنچے تو فٹن والا زیادہ کرایہ مانگتا تھا۔مگر حضرت نانا جان کچھ کم دیتے تھے حتی کہ جھگڑا ہو گیا۔جب جھگڑے کی آواز حضرت صاحب تک پہنچی تو حضور بنفس نفیس باہر تشریف لائے اور فرمایا کیا بات ہے؟ میر صاحب نے کہا کہ یہ لوگ بڑے بے ایمان ہوتے ہیں۔کرایہ زیادہ مانگتے ہیں۔ہم نے جو مناسب تھا دے دیا ہے۔حضور نے اس فٹن والے کو چوان کو بلا کر فر مایا کہ اور کیا چاہتے ہو۔اس نے کہا۔حضور ایک روپیہ مجھے اور ملنا چاہیے۔حضور اندر گئے اور ایک دو منٹ کے بعد ایک روپیہ لا کر اسے دے دیا اور میر صاحب سے فرمایا کہ مزدوری سے کم نہیں دینا چاہئے۔یہ سن کر وہ کو چوان بہت خوش ہوا اور حضور کے اخلاق کی تعریف کرتا ہوا چلا گیا۔ے۔میں چونکہ حضرت صاحب کو روزانہ خط لکھا کرتا تھا اس واسطے حضرت اقدس کو بھی