لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 234 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 234

234 آتی تو آتے ہی مجھے کہتے ” او مرزائی بیچ پر کھڑا ہو جا‘ میں ان کے حکم کے مطابق پیچ پر کھڑا ہو جاتا اور پوچھتا کہ میرا کیا قصور ہے؟ وہ کہتے۔یہی قصور ہے کہ تم مرزائی ہو اور کا فر ہو۔کچھ عرصہ ان کی اس تکلیف دہی کو برداشت کر کے ایک روز میں نے ہیڈ ماسٹر صاحب کی خدمت میں جا کر شکایت کر دی کہ بعض استاد مجھے اس وجہ سے مارتے ہیں کہ میں احمدی ہوں۔اس پر انہوں نے ایک سرکلر جاری کر دیا کہ مذہب کے اختلاف کی وجہ سے کوئی مدرس کسی لڑکے کو سزا نہ دے چنانچہ اس آرڈر کے بعد مولوی زین العابدین صاحب اور ان کے ہم خیال استاد ڈھیلے پڑ گئے اور مجھ پر جو خنتی ہوا کرتی تھی اس میں کمی آگئی۔حضرت صاحب کی خدمت میں بھی جب کبھی حاضر ہونے کا موقعہ ملتا تو میں حضور کی خدمت میں اپنی تکالیف کا ذکر کرتا۔حضور فرماتے۔کوئی بات نہیں۔خدا تعالیٰ فضل کرے گا۔اس اثناء میں مڈل کا امتحان ہوا جس میں میں فیل ہو گیا۔اس پر میرے مخالف استادوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ مرزے کی برکت ہے۔میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضور لوگ مجھے یہ طعنہ دیتے ہیں کہ مرزا صاحب کی بیعت کی وجہ سے تم فیل ہو گئے ہو۔یہ تمہیں مرزائی ہونے کی سزا ملی ہے۔حضور نے مسکرا کر کہا کہ یہ کوئی بات نہیں۔رزق کا پاس اور فیل ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔خدا بہتر کرے گا۔پس میں لا ہور چلا آیا اور یہاں کچھ ٹیوشنز کا کام شروع کر دیا۔اور پھر مجھے ایک جگہ ملازمت بھی مل گئی۔اس کے بعد مجھے ایک جگہ شادی کا خیال ہو گیا۔وہ میرے قریبی رشتہ دار بھی تھے۔حضور کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا۔حضور نے فرمایا۔دعا کروں گا۔چنانچہ میں اکثر دعا کے لئے لکھتا رہا۔چنانچہ حضرت اقدس پر اللہ تعالیٰ نے ظاہر کیا کہ یہ رشتہ اس کے لئے مناسب نہیں اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے لکھوا بھی دیا کہ اس رشتہ کا خیال چھوڑ دو اور ایک تمثیل بھی لکھوائی کہ سید عبد القادر جیلانی فرماتے تھے کہ اگر ایک شخص باغ کے اندر سیر کے لئے داخل ہوا اور پہلے ہی پودے کو دیکھ کر یہ خیال کرے کہ اس سے بہتر اور نہیں ہوگا تو وہ باقی باغ کی سیر سے محروم رہے گا۔چنانچہ اس اصول پر حضور نے مجھ سے عہد لکھوایا کہ آئندہ اس رشتے کے واسطے کبھی خواہش نہیں کروں گا۔چنانچہ میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں یہ