لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 233
233 ہی حافظ حامد علی صاحب نے فرمایا تھا کہ آپ پہلی صف میں جا کر بیٹھ جائیں۔چنانچہ میں اسی ہدایت کے باعث پہلی صف میں قبل از وقت جا بیٹھا۔حضور تشریف لائے۔نماز پڑھی گئی۔نماز کے بعد حضور میری طرف مخاطب ہوئے۔اور فرمایا کہ آپ کب جانا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا۔حضور ایک دور وز ٹھہروں گا۔فرما یا کم از کم تین دن ٹھہر نا چاہیئے۔دوسرے روز ظہر کے وقت میں نے بیعت کے لئے عرض کی۔فرمایا کہ ابھی نہیں۔کم از کم کچھ عرصہ یہاں ٹھہریں۔ہمارے حالات سے آپ واقف ہوں۔اس کے بعد بیعت کریں۔مگر مجھے پہلی رات ہی مہمان خانہ میں ایک رویا ہوئی جو یہ تھی کہ میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک نور نازل ہوا اور وہ میرے ایک کان میں داخل ہوا اور تمام جسم میں سے ہو کر دوسرے کان سے نکل کر آسمان کی طرف چلا گیا۔اس میں کئی قسم کے رنگ تھے۔سبز تھے، سرخ تھے نیلگوں تھے اتنے تھے کہ گنے نہیں جا سکتے۔قوس و قزح کی طرح تھے۔اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تمام دنیا روشن ہے۔اس وقت مجھے اس قدر سرور اور راحت تھی کہ میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔مجھے صبح اٹھتے ہی محسوس ہوا کہ اس رویا کا مطلب یہ ہے کہ آسمانی برکات سے مجھے وافر حصہ ملے گا۔اس لئے مجھے بیعت کر لینی چاہئیے۔چنانچہ اسی رؤیا کے اثر سے میں نے دوسرے روز بیعت کے لئے عرض کی جو منظور نہ ہوئی۔حضور نے تین دن کی شرط کو برقرار رکھا۔چنانچہ تیسرے روز ظہر کے بعد میں نے عرض کیا کہ حضور مجھے انشراح صدر ہو گیا ہے۔اللہ میری بیعت قبول فرمائیں اس پر حضور نے میری بیعت قبول فرمائی اور میں رخصت حاصل کر کے لاہور آ گیا۔چوتھے روز جو سکول گیا تو مجھے ایک شخص مرزا رحمت اللہ صاحب سکنہ ڈسکہ ملازم انجمن حمایت اسلام نے بلا کر پوچھا کہ تم چار دن کہاں تھے؟ میں نے صاف صاف کہا کہ قادیان گیا تھا۔انہوں نے پوچھا۔بیعت کر آئے ہو؟ میں نے کہا۔ہاں ! انہوں نے کہا کہ یہاں کسی سے ذکر نہ کرنا۔میں بھی احمدی ہوں۔یہ لوگ بڑے تنگ دل ہیں، ستائیں گے۔میں نے کہا کہ میں تو اس کو پوشیدہ نہیں رکھوں گا۔چاہے کچھ ہو۔چنانچہ میں نے اپنے قرآن و حدیث کے استاد مولوی زین العابدین سے جو مولوی غلام رسول قلعہ والوں کے بھانجے تھے ذکر کر دیا۔جس پر وہ بہت بگڑے اور میرے ساتھ سختی کرنا شروع کر دی۔جب ان کی گھنٹی