لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 226 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 226

226 ہم طاعون سے تباہ ہو گئے ہیں۔مجھے خیال ہوا کہ حضور کا الہام يَا مَسِيحَ الخَلْقِ عَدْوَانَا پورا ہو رہا ہے۔حضور نے ان کے الحاج پر دعا فرمائی۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ حضرت بابو صاحب کی روایات تو بہت ہیں۔میں نے کتاب کے حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ روایات لے لی ہیں۔اگر کسی وقت ان اصحاب کے الگ الگ حالات لکھنے کا کبھی موقع ملا تو سب کا بالتفصیل ذکر آ جائے گا۔حضرت بابو صاحب درمیانہ قد کے جمہیر الصوت آدمی تھے۔لوہاری منڈی سے فجر کی نماز پڑھنے کے لئے بالالتزام مسجد احمد یہ دہلی دروازہ میں تشریف لایا کرتے تھے۔کمر میں پڑکا بندھا ہوا ہوتا تھا اور پرانے شہر کے اردگرد جو باغ ہے اس میں درنشین کے اشعار پڑھتے آتے تھے۔عموماً تہجد کی نماز مسجد ہی میں ادا فر ماتے تھے اور پھر فجر کی اذان کہتے تھے۔بڑھاپے میں بھی آپ کی آواز اس قدر بلند تھی کہ محلے کے بچے بھی چونک پڑتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر بہت مزے لے لے کر کیا کرتے تھے۔آپ چونکہ گھڑیوں کی مرمت کرنا بھی خوب جانتے تھے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ان ہی کو اپنی گھڑی دیا کرتے تھے اور اگر ضرورت پڑے تو ان ہی کے ذریعے منگوایا بھی کرتے تھے۔مسجد احمدیہ کی گھڑی کی مرمت بھی آپ ہی کے ذمہ تھی۔مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ جب تیار ہو رہی تھی تو آپ بھی حضرت حکیم محمد حسین صاحب موجد مفرح عنبری“ کے پہلو بہ پہلو روڑی کوٹا کرتے تھے اور اینٹیں اٹھا اٹھا کر مستریوں کو پکڑایا کرتے تھے۔اپریل ۱۹۳۶ء میں جب آپ کی وفات ہوئی تو اس زمانہ میں چونکہ خاکسار ہی لاہور میں بطور مبلغ متعین تھا۔اس لئے مسجد احمد یہ لاہور میں آپ کا جنازہ بھی میں نے ہی پڑھایا تھا۔بہت خوب آدمی تھے۔جب آپ کی نعش بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کے لئے قادیان لے جائی گئی۔تو حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مسجد مبارک میں حضرت بابو صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: با بو غلام محمد صاحب حضرت مسیح موعود کے پرانے صحابہ میں سے تھے۔اختلاف