لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 223
223 نے کہا کہ میں نے تو کوئی حکم نہیں دیا۔اس پر خواجہ صاحب نے کہا کہ میں تو گھنٹوں سے انتظار کر رہا تھا اور چاہتا تھا کہ کسی ڈھب سے اندر پہنچوں مگر پولیس کسی کو اندر نہ آنے دیتی تھی۔۱۲۔حضرت با بو غلام محمد صاحب دہلی کے سفر میں بھی جو ۱۹۰۵ء میں کیا گیا، حضور کے ساتھ تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ دہلی میں ایک روز حضور نظام الدین اولیاء کے مزار پر تشریف لے گئے اور اتنی لمبی دعا کی کہ ہم سب تھک گئے۔دعا ختم کرنے کے بعد خا کسار کو جو قریب ہی کھڑا تھا۔مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ مقامات بھی قبولیت کے ہوتے ہیں۔یہاں سے دعا جلد سنی جاتی ہے۔میں آپ لوگوں کے سبب جلد فارغ ہو گیا۔ورنہ میں نظام الدین سے باتوں میں لگا رہتا۔یہ بڑا با اقتدار انسان گذرا ہے جس کو دلی والوں نے قبول کر لیا۔میں تو کئی دفعہ دلی میں آیا۔جس طرح پتھریلی زمین دلی کی ہے۔اس سے زیادہ پتھر دل یہاں کے لوگوں کو پایا۔اتنے میں ایک مجاور اونچی آواز سے بولا کہ کوئی وثیقہ نہیں، کوئی پنشن نہیں۔میں جاروب کش ہوں اور مزار کی خدمت کرتا ہوں۔کوئی تنخواہ دار نو کر نہیں ہوں۔اس پر حضور نے جیب میں ہاتھ ڈال کر چاندی کی دونی نکالی اور ایک مٹی کی صراحی میں جو مزار کے سر ہانے پڑی تھی۔اس میں ڈال دی اور میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا۔آپ لوگ بھی کچھ کچھ اس میں ڈال دیں۔چنانچہ سب نے ادھنیاں، پیسے اور دونیاں اس میں ڈالیں ( اس زمانہ میں آنے کا سکہ نہیں ہوتا تھا ) اتنے میں ایک شخص چٹائی پر لیٹا ہوا پاجامہ کی جگہ ایک لنگی باندھے ہوئے اور سر و پاسے بر ہنہ لیٹ کر کوئی کتاب پڑھ رہا تھا۔اس کا نام بعد میں دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ خواجہ حسن نظامی ہیں۔وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور دونوں ہاتھ جوڑ کر حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض گزار ہوا کہ غلام کی بھی ایک آرزو ہے۔اللہ سن لیں اور کہا کہ کٹیا میں تشریف لا کر ایک پیالی چائے نوش فرما لیں۔اس پر حضور نے دعوت قبول کی اور ایک چھوٹی سی کھڑکی میں سے اندر تشریف لے گئے۔اور بھی چائے کے شوقین ساتھ چلے گئے۔چنانچہ حضور نے اندر بیٹھ کر چائے نوش فرمائی۔حضرت باقی باللہ کے مزار پر بھی گئے مگر میں وہاں موجود نہیں تھا۔دہلی سے واپسی پر جب امرتسر پہنچے تو رمضان کا مہینہ تھا۔ایک حویلی امرتسر میں حضور کے لئے تجویز ہوئی تھی حضور وہاں آ کر اترے۔رات کو بالا خانہ پر سوئے تھے۔صبح ہال میں جلسہ ہوا۔مجھے حکم