لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 216
216 نے خاکسار اور محترم ملک خدا بخش صاحب کے سپر د کیا تھا۔کھانے اور مہمانوں کی رہائش کا انتظام محترم چوہدری اسد اللہ خاں صاحب کی قیام گاہ ٹرنر روڈ پر کیا گیا۔اس انتظام میں محترم چوہدری صاحب نے بے حد مدد فرمائی۔فجزاه الله احسن الجزاء - محترم چوہدری عبدالرحیم صاحب نے جلسہ گاہ کا نقشہ تیار کیا تھا اور جلسہ رتن باغ کے بالمقابل سیمنٹ بلڈنگ سے ذرا آگے وکیل خانہ پٹیالہ ہاؤس میں ہوا تھا۔جب باؤنڈری کمیشن کا اعلان ہوا تو اس وقت حضور قادیان سے لاہور تشریف لائے۔جسٹس منیر کی کوٹھی پر بھی بعض امور کی وضاحت کے سلسلہ میں تشریف لے گئے۔اس موقعہ پر بھی عاجز ساتھ تھا۔ہجرت کے بعد لا ہور میں جو پہلا جلسہ سالانہ ہوا اس کا انتظام بھی محترم شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت نے میرے سپرد کیا تھا۔یہ جلسہ بھی رتن باغ کے سامنے خالی زمین میں ہوا تھا جہاں اب بلڈ نگ بن چکی ہے۔جب تحقیقیاتی عدالت کا اعلان ہوا تو حضرت امیر المومنین نے وکلاء کی جو میٹنگ بلائی تھی اس میں از راه نوازش مجھے بھی شامل فرمایا تھا۔جب تقسیم ملک کے بعد مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ جماعت کے لئے ناکافی ثابت ہوئی تو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ جماعت کو کسی کھلی جگہ میں مسجد بنانے کے لئے زمین خریدنی چاہئے جو امید ہے کہ دس ہزار روپے میں حاصل ہو جائے گی۔نماز جمعہ کے بعد شیخ بشیر احمد صاحب نے مجھے فرمایا کہ میری کار لے لو اور فوری طور پر چندہ جمع کرو۔چنانچہ میں نے محترم میاں غلام محمد صاحب اختر کو ساتھ لیا۔سب سے پہلے ہم محترم ڈاکٹر محمد بشیر صاحب کی کوٹھی واقع ڈیوس روڈ پر گئے۔انہوں نے ایک ہزار روپیہ کا چیک دیا۔پھر جماعت کے اور دوستوں کے پاس گئے۔شام کو ہم نے پانچ ہزار روپے نقد اور پانچ ہزار کے وعدوں کی فہرست محترم شیخ صاحب کو دی تا وہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی خدمت میں پیش کریں۔چنانچہ جب انہوں نے مغرب کے وقت یہ فہرست حضور کی خدمت میں پیش کی تو حضور نے خوشنودی کا اظہار فرمایا۔بعد میں دارالذکر کی زمین اس غرض کیلئے سولہ ہزار روپے میں خریدی گئی۔فالحمدللہ علی ذالک