لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 212
212 ۲۰۱۸ سال اسی ملازمت میں گزار دیئے۔آپ کے صاحبزادے ڈاکٹر الہ بخش صاحب کا بیان ہے کہ ۱۹۰۶ء یا ح 19ء کا زمانہ تھا جب کہ مولانا موصوف نے بچوں سمیت تین ماہ کی رخصت قادیان میں گزاری۔۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ کی وفات پر سوائے دو تین افراد کے ڈیرہ غازیخاں کی تمام جماعت نے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی بیعت کر لی۔اور دو تین افراد میں سے ایک مولانا موصوف بھی تھے۔۱۹۳۰ء میں احمد یہ بلڈنگکس لاہور میں آکر مستقل سکونت اختیار کر لی اور رہائش کے لئے ایک مکان بھی خرید لیا۔زندگی بھر غیر مبائعین کی مسجد میں امامت کے فرائض سرانجام دیئے۔آپ کی وفات انداز ۱۹۶۰ء میں ہوئی۔انا للہ و انا اليه راجعون اولاد: ڈاکٹر الہ بخش محترم با بوفضل الدین صاحب ریٹائر ڈسپرنٹنڈنٹ لاہور ہائیکورٹ ولادت : ۲۔فروری ۱۸۹۷ء بیعت : پیدائشی محترم با بو فضل الدین صاحب سیالکوٹ میں ۲۔فروری ۱۸۹۷ء کو پیدا ہوئے۔والد ماجد کا نام میاں فیروز الدین صاحب تھا اور وہ صحابی تھے۔تعلیم امریکن مشن سکول سیالکوٹ میں حاصل کی۔۱۹۱۴ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔۱۹۱۵ء میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیالکوٹ کے ہاں بطور امیدوار کام کیا۔1917ء کے شروع میں محکمہ چیف انجنیئر انہار پشاور میں ملازم ہوئے۔مگر دسمبر ۱۹۱۶ء میں استعفا دے کر واپس سیالکوٹ چلے آئے۔اپریل ۱۹۱۷ء میں دفتر چیف کورٹ حال ہائیکورٹ لاہور میں ملازمت اختیار کی اور یہیں سے ریٹائر ہوئے۔آپ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دینی مشاغل دوران ملازمت سیالکوٹ سے ہمارے پردادا میاں نظام الدین صاحب کو کسی حد تک واقفیت تھی۔اس لئے جب حضور ۱۸۹۲ء میں سیالکوٹ تشریف لائے اور آپ کے دعوی کا چرچا ہوا تو ہمارے پر پردادا صاحب نے خاندان کے سب افراد کو اکٹھا کر کے کہا کہ ”یہ مونہ جھوٹ بولنے والا نہیں تم سب کو