لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 193 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 193

193 کرتے تھے۔ایک بوڑھی اندر گھر میں کام کرتی تھی۔کھانے کی اشیاء چاول آٹا‘ دال وغیرہ کی بوریاں نیچے گول کمرہ میں پڑی رہتی تھیں۔ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لودھیانہ میں ایک مسجد کے صحن میں لیکچر دینا شروع کیا۔لوگوں نے پتھراؤ کیا۔روڑے مارے۔مسجد کی صحن کی اینٹیں اکھیڑ دیں۔لوٹے تو ڑ دیئے۔حضور کو پیاس محسوس ہوئی مگر پانی کہیں سے نہ ملاوہ لوگ کنوئیں کی چر کھڑی بھی اتار کر لے گئے تھے۔اس مسجد کی چھت کے او پر کچھ مستورات حضور کی تقریرین رہی تھیں۔ایک عورت دوڑتی ہوئی اپنے گھر گئی اور دودھ کی ہنڈیا اٹھا لائی۔جلدی میں پینے والا برتن بھی نہ لا سکی اور آتے ہی کہا کہ لے بھراوا اس کو مونہہ لگا کر پی جا۔حضور انور نے مونہہ لگا کر وہ دودھ پی لیا۔وہ بڑھیا عورت جزاک اللہ جزاک اللہ کہتی جاتی تھی اور نیز کہتی جاتی کہ یہ خبیث لوگ تو ہمیشہ فتوے لگاتے رہے اور اپنا شکم دوزخ کی آگ سے بھرتے رہے۔اولاد : شیخ عنایت اللہ شیخ عباد اللہ شیخ شریف اللہ کوثر امتہ الرشید - امة الحفیظ۔امۃ النظیر۔امۃ النصیر۔حضرت صوفی غلام محمد صاحب ( ماریشس ) ولادت : ۱۸۸۱ء بیعت: ۱۸۹۵ء وفات: ۱۷۔۱۸۔اکتوبر ۱۹۴۷ء بمقام لاہور ۳۱۳۔اصحاب کی فہرست میں انجام آتھم صفحہ ۱۴۹ پر مچھرالہ لا ہور کے ایک طالب علم میاں غلام محمد کا بھی ذکر ہے۔یہ طالب علم بعد میں حضرت صوفی غلام محمد صاحب آف ماریشس کے نام سے مشہور ہوئے۔یہ پہلے مبلغ تھے۔جو خلافت ثانیہ کے ابتداء میں جزیرہ ماریشس میں بھیجے گئے اور مسلسل بارہ سال تک آپ کو وہاں کام کرنے کی توفیق ملی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیش بہا کامیابیاں عطا فرمائیں۔ان کے ماریشس میں کام کو دیکھ کر جماعت احمدیہ کی وہاں دھاک بیٹھ گئی۔نہایت ہی خوش خلق، شیر میں بیان اور متحمل مزاج بزرگ تھے۔حافظ قرآن بھی تھے۔قرآن کریم ایسے دلکش لہجہ میں پڑھتے تھے کہ پرانے اصحاب کے بیان کے مطابق کسی حد تک حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔قادیان میں محلہ دارالرحمت میں رہائش تھی۔ہجرت پر رتن باغ لاہور میں وفات پائی۔فانالله و انا اليه راجعون۔آپ ابھی بچہ ہی تھے کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور حضرت چوہدری رستم علی صاحب کورٹ