لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 187
187 ملازمت اختیار کرنے کا بھی ثبوت ملتا ہے۔میاں سراج الدین صاحب بہت نیک اور سادہ مزاج آدمی تھے۔آپ نے جولائی ۱۹۲۸ء میں ۶۹ سال ۴ ماہ کی عمر پا کر وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کئے گئے۔فانالله و انا اليه راجعون۔اولاد: میاں محمد شریف۔میاں محمد اشرف۔میاں محمد یعقوب۔زیب النساء حضرت میاں تاج الدین صاحب ولد میاں عمر دین صاحب ولادت : ۱۸۷۴ء بیعت : انداز ۹۴۴-۱۸۹۵ء وفات: میاں تاج الدین صاحب حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر کے چھوٹے بھائی تھے۔بہت ہی مخلص اور عبادت گزار بزرگ تھے۔رات ۱۲ بجے کے بعد اٹھ کر بقیہ رات عبادت میں گزار دیتے تھے۔نقشہ نویس تھے۔اوور سیر بھی تھے۔پہلے ٹھیکیداری کرتے تھے۔مگر مزدوروں کو پیشگی رقمیں دے دیا کرتے تھے۔جو بعض اوقات رفو چکر ہو جایا کرتے تھے۔اس لئے کچھ عرصہ کے بعد آپ نے یہ کام چھوڑ دیا تھا۔اولاد: میاں کمال دین۔میاں فیروز دین جناب خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم ولادت : ۱۸۷۰ء بیعت : ۱۸۹۴ ء وفات : ۲۷ - ۲۸ دسمبر ۱۹۳۲ء محترم جناب خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر نے ۱۸۹۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔زمانہ طالب علمی میں آپ اسلام سے متنفر ہو کر عیسائیت اختیار کرنے کا عزم کر چکے تھے کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ”براہین احمدیہ کہیں سے ہاتھ لگ گئی۔اس کتاب کے مطالعہ نے آپ کی زندگی میں ایک انقلاب عظیم پیدا کر دیا اور آپ بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔محترم جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے بھی انہیں کی تبلیغ سے ۱۸۹۷ء میں داخل احمدیت ہوئے تھے۔محترم خواجہ صاحب مرحوم نے بحیثیت وکیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جو مقدمات حضور پر مخالفین و معاندین کی طرف سے دائر کئے گئے۔قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔آپ