لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 185
185 بزرگ تھے کہ ایک ادنی غلام کے لئے یہ نوازشات ! گیارہ بارہ سال کی لمبی اور پیچیدہ بیماری کو آپ نے نہایت ہی صبر وسکون کے ساتھ گزارا۔آخر میں دل کے دورے پڑنے بھی شروع ہو گئے تھے۔کئی مرتبہ تشویشناک حد تک بیماری ترقی کر گئی مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچ جاتے رہے۔آپ کی وفات پر بہشتی مقبرہ ربوہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی طرف سے آپ کے مزار پر جو کتبہ لکھا گیا ہے وہ درج ذیل ہے: اخویم نواب زادہ میاں عبداللہ خاں صاحب حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے فرزند ہونے کی وجہ سے صحابی ابن صحابی تھے اور انہیں یہ شرف بھی حاصل ہوا کہ اپنے والد ماجد کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دامادی کی فضیلت بھی ملی۔نہایت نیک، شریف منکسر المزاج اور ہمدرد طبیعت رکھتے تھے۔فرض نمازوں کے علاوہ نماز تہجد کے بھی پابند تھے اور دعاؤں میں بہت شغف رکھتے تھے اور سلسلہ کی مالی خدمت میں ذوق شوق سے حصہ لیتے تھے۔۶۶ سال کی عمر میں ۱۸۔ستمبر 1941ء کو لاہور میں فوت ہو کر بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔اللهم اغفره وادخله الجنة۔مرزا بشیر احمد - ربوه اولا د : صاحبزادی طیبہ آمنہ بیگم صاحبہ صاحبزادہ نواب عباس احمد خاں صاحب صاحبزادی طاہرہ بیگم صاحبہ صاحبزادی ذکیہ بیگم صاحبہ صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ صاحبزادی شاہدہ بیگم صاحبۂ صاحبزادہ میاں شاہد احمد خاں صاحب صاحبزادی فوزیہ بیگم صاحبہ صاحبزادہ میاں مصطفی احمد خاں صاحب۔حضرت میاں عبد الغفار صاحب جراح امرتسری ولادت: ۱۸۹۳ء بیعت: پیدائشی احمدی وفات : ۱۳ مئی ۱۹۵۹ ء عمر ۶۶ سال حضرت میاں عبدالغفار صاحب جراح امرتسری حضرت میاں غلام رسول صاحب جراح امرتسری کے فرزند تھے۔حضرت میاں غلام رسول صاحب کو یہ فخر حاصل تھا کہ آپ نے بیسیوں مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حجامت بنائی اور متعدد مرتبہ باورچی کا کام کیا۔چنانچہ آپ کے فرزند میاں عبد الغفار صاحب کے پاس حضور علیہ السلام کے ناخن، بال اور گرم و سرد کپڑے کافی تعداد میں موجود تھے۔خود راقم الحروف نے امرتسر میں بھی اور یہاں لاہور میں بھی متعدد مرتبہ یہ تبرکات دیکھے ہیں۔ایک مرتبہ